مصنوعی ذہانت ایشیا میں افرادی قوت کی کمی کے معاشی اثرات کم کر سکتی ہے: آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں ہونے والا اضافہ ایشیائی ممالک کو بڑھتی عمر کی آبادی اور کام کرنے والے افراد کی تعداد میں کمی جیسے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے فوائد مختلف ممالک تک یکساں طور پر نہ پہنچے تو خطے میں معاشی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے افرادی قوت کی تربیت اور معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پیر، 12 اکتوبر کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ایشیا کے اقتصادی چیلنجوں اور مواقع سے متعلق ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تبدیلی، علاقائی اقتصادی روابط اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی ایشیا کی معیشت پر اثرانداز ہونے والے تین بڑے عوامل ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ترقی یافتہ ایشیائی معیشتوں کی اقتصادی شرحِ نمو میں تقریباً نصف سے ایک فیصد پوائنٹ تک اضافہ کر سکتی ہے، جو بڑھتی عمر کی آبادی کے منفی معاشی اثرات کی تلافی میں مددگار ثابت ہوگا۔

آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں موجودہ دور سے 2050 تک کام کرنے کی عمر کی آبادی میں تقریباً 25 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل میں پیداواری سرگرمیوں، معاشی ترقی اور افرادی قوت کی دستیابی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار اور پیداواری صلاحیت بڑھا کر اس کمی کے معاشی اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق اگر ممالک مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تو اس کے معاشی فوائد آبادی میں تبدیلی سے پیدا ہونے والے دباؤ سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر آئی ایم ایف کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سری نواسن نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان فرق بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق ترقی یافتہ معیشتوں میں ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، لیکن یہ ممالک اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی بہتر صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ابھرتی ہوئی معیشتوں میں فوری اثرات نسبتاً محدود ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے پاس ممکنہ فوائد حاصل کرنے کے وسائل بھی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے یا ان کی جگہ خودکار نظام لے لیتے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم، مہارتوں اور پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے والی اصلاحات مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کو دس سال یا اس سے بھی زیادہ پہلے ممکن بنا سکتی ہیں۔

کرسٹالینا جارجیوا نے ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق علاقائی تجارتی معاہدوں کو مزید مضبوط بنانے اور غیر محصولاتی تجارتی رکاوٹیں کم کرنے سے طویل مدت میں ایشیا کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 1.8 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ گفتگو بینکاک میں جاری آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت، افرادی قوت کی تربیت اور مضبوط علاقائی تجارتی روابط کو یکجا کرکے ایشیائی ممالک آنے والے عشروں میں آبادی اور اقتصادی ڈھانچے کی تبدیلیوں سے بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں