پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ملک میں کرکٹ کے خاتمے سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا غیر معقول ہے کہ پاکستان کرکٹ ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور رینکنگ میں بہتری اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ دنیا کی بڑی کرکٹ ٹیموں کو بھی کبھی کبھار شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنوبی افریقہ نمیبیا سے یا بھارت آئرلینڈ سے ہار جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک میں کرکٹ ختم ہو گئی۔
پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی ون ڈے رینکنگ آٹھویں نمبر سے پانچویں نمبر تک بہتر ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ چھ ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم نے چار میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق ٹیم کی کامیابی کی شرح بھی 24 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچی ہے۔
محسن نقوی نے انگلینڈ کے دورے کے دوران اسکواڈ میں کی جانے والی تبدیلیوں پر ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات سلیکشن کے فیصلوں میں غلطیاں ہو سکتی ہیں، تاہم بورڈ کا مقصد بہتر نتائج حاصل کرنا ہے اور وہ ان فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے یا برقرار رکھنے، دونوں صورتوں میں تنقید سامنے آتی ہے، لیکن اگر کوئی کھلاڑی مسلسل کارکردگی نہیں دکھا رہا تو تبدیلی ضروری ہو جاتی ہے۔
سابق کپتان اظہر علی نے حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بار بار فیصلے بدلنے سے کھلاڑیوں میں عدم تحفظ پیدا ہو سکتا ہے اور ٹیم کو ایک مستقل منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چند ناکامیوں کی بنیاد پر پورے نظام کو ناکام قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کو چند ماہ میں عالمی سطح پر سرفہرست مقام تک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا، پاکستان کرکٹ کی بہتری ایک طویل سفر ہے۔ انہوں نے شائقین سے اپیل کی کہ تنقید ضرور کریں، لیکن کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی سے گریز کیا جائے۔