مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کے تحفظ پر آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے ہزاروں ملازمین کی ہڑتال

آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے تقریباً دو ہزار ملازمین نے 24 گھنٹے کی ہڑتال کی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ملازمین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ایسے واضح اصول ہونے چاہییں جن سے اساتذہ اور دیگر ملازمین کی نوکریاں اور حقوق محفوظ رہیں۔ ہڑتال کے باعث بیشتر کلاسیں آن لائن منتقل، ملتوی یا منسوخ کردی گئیں۔

ملازمین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بعض تدریسی یا انتظامی کام کم کیے جاسکتے ہیں، جس سے ملازمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو اساتذہ کی جگہ لینے کے بجائے ان کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے اور اس بارے میں فیصلے ملازمین سے مشورے کے بعد کیے جائیں۔

یونین رہنماؤں کے مطابق مسئلہ صرف مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں۔ ملازمین بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ، بڑی کلاسوں، ملازمتوں کے تحفظ اور ایسی نئی تدریسی آسامیوں پر بھی تحفظات رکھتے ہیں جن میں تحقیق کا موقع کم ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو واضح کرنا چاہیے کہ نئی ٹیکنالوجی سے ملازمین کی ذمہ داریوں اور ملازمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ذمہ داری اور انسانی نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انتظامیہ کے مطابق اس سلسلے میں پہلے سے کچھ اصول موجود ہیں اور یونین کے کئی مطالبات سے اتفاق بھی کیا جاتا ہے، تاہم انتظامیہ سمجھتی ہے کہ ان معاملات کو ملازمت کے معاہدے کے بجائے یونیورسٹی کی پالیسیوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ہڑتال میں طلبہ کے نمائندوں نے بھی ملازمین کا ساتھ دیا۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی تعلیم اور تحقیق میں مددگار بنے، اساتذہ کی جگہ نہ لے اور اس کے استعمال سے کسی کی ملازمت یا حقوق متاثر نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں