مون سون خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور واضح قومی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، ایمرجنسی رسپانس کمیٹی

ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے 2026 کے مون سون سیزن کے دوران ممکنہ آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کمیٹی کو 2026 کے مون سون سیزن کے دوران قومی سطح پر تیاریوں، ہنگامی ردِعمل اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اجلاس میں این ڈی ایم اے نے موسمی پیش گوئیوں، اب تک رپورٹ ہونے والے اہم واقعات اور ملک کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی۔

شرکا نے کہا کہ مون سون کے دوران بروقت اقدامات، مؤثر رابطہ کاری اور واضح قومی حکمتِ عملی کے ذریعے جانی نقصان، معاشی نقصان اور اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

کمیٹی نے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو شریک اراکین کے طور پر شامل کرنے کی منظوری بھی دی۔

اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ 2026 کے مون سون اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ بحرانوں کی واضح نشاندہی ضروری ہے، تاکہ قومی سطح پر مربوط ردِعمل دیا جا سکے۔

کمیٹی نے خبردار کیا کہ گلیشیئرز کے سکڑنے، خشک سالی میں اضافے اور ملک کے کئی حصوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث زرعی شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے غذائی تحفظ کے سنگین چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔

احسن اقبال نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ وہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے ساتھ مل کر 2027 تک کے لیے طویل المدتی تخمینے تیار کرے۔

اجلاس میں شریک تمام وزارتوں اور اداروں نے اتفاق کیا کہ 2026 کے مون سون سیزن کے دوران جانوں، روزگار اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور متحدہ قومی ردِعمل یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں