بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں خسرے کی وبا برقرار، مون سون کے ساتھ ڈینگی کیسز میں بھی اضافہ

بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں خسرے کی وبا پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ مون سون کے ساتھ ڈینگی کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس پر صحت حکام نے تشویش ظاہر کی ہے۔

صحت حکام کے مطابق چٹاگانگ کے اسپتالوں میں روزانہ اوسطاً 50 بچے خسرے جیسی علامات کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ کئی مریض قریبی اضلاع سے بھی آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کو الگ رکھنے کے انتظامات مؤثر نہیں ہو پا رہے۔

سول سرجن ڈاکٹر جہانگیر عالم کے مطابق مارچ کے چوتھے ہفتے سے 2 جولائی تک خسرے کی علامات کے ساتھ 3 ہزار 871 مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ صرف جون میں 1604 مریض سامنے آئے، جبکہ 28 جون کو ایک دن میں سب سے زیادہ 69 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں اب تک خسرے کے 331 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر مریض شہر کے رہائشی ہیں۔ خسرے کی علامات والے 12 افراد اور 3 تصدیق شدہ مریض انتقال کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر جہانگیر عالم کے مطابق ویکسینیشن کے باوجود کیسز اس لیے سامنے آ رہے ہیں کیونکہ جو افراد ویکسین سے پہلے متاثر ہو چکے ہوں، ان میں بعد میں بھی بیماری ظاہر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریضوں کو الگ رکھنے کے اصولوں پر عمل نہ ہونا وبا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔

دوسری جانب چٹاگانگ میں ڈینگی کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ جون میں ڈینگی کے 122 کیسز رپورٹ ہوئے، جو رواں سال کسی بھی مہینے کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جولائی کے پہلے دو دنوں میں مزید 19 کیسز سامنے آئے، جس کے بعد رواں سال ڈینگی مریضوں کی تعداد 319 ہو گئی۔

چٹاگانگ کے میئر شہادت حسین کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مچھر مار کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال میں ڈینگی مریضوں کے لیے 50 بستروں کا الگ وارڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں