پاکستان کےوزیرِ اقتصادی امور، احد خان چیمہ نے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران ورلڈ بینک کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان اور اس بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے درمیان ترقیاتی شراکت داری پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
واشنگٹن میں منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، محترمہ آنا بیئرڈے، اور جنوبی ایشیا کے ریجنل نائب صدر مارٹن رائزر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں، وزیر نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور ورلڈ بینک گروپ کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کو سراہا۔
دونوں کے مابین یہ بہتر تعاون نئے ‘کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) 2026-2035’ کی تیاری پر منتج ہوا ہے، جو ایک انقلابی دس سالہ حکمت عملی ہے اور ورلڈ بینک کی طرف سے 40 ارب ڈالر کی غیرمعمولی مالی معاونت پر مبنی ہے۔
وزیر نے ورلڈ بینک کی مدد پر شکریہ ادا کیا، خاص طور پر ان نازک مواقع پر جب پاکستان کو COVID-19 عالمی وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا تھا۔
احد خان چیمہ نے کہاکہ،ورلڈ بینک ہمارے سب سے بڑے ترقیاتی شراکت دار کے طور پر پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اور ہمارے شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے اس شراکت داری کو فروغ دینے میں بیئرڈے اور رائزر کی قیادت کو خاص طور پر سراہا۔
CPF کے باضابطہ آغاز کے بعد، وزیر نے زور دیا کہ، حکومت اب اس حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے ورلڈ بینک کے ساتھ ایک جامع عملدرآمد فریم ورک کی تیاری پر مرکوز ہے، تاکہ اس حکمت عملی سے مکمل فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ ،پاکستان کو اب ورلڈ بینک کے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA) ریجن میں شامل کر دیا گیا ہے، جہاں نائب صدر عثمان دیون کی قیادت میں پاکستان کو ،معلومات کے تبادلے اور علاقائی ہم آہنگی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
علاوہ ازیں، وزیر نے ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبد الحق بیدجاوی سے ایک علیحدہ ملاقات میں پاکستان کے اقتصادی مفادات کے مؤثر تحفظ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو اپنے حلقہ ممالک کے باقاعدہ دورے کرنے چاہییں، تاکہ وہ زمینی ترقیاتی ضروریات اور شراکت داری کے مواقع کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
بات چیت کے دوران حالیہ منظور شدہ ورلڈ بینک منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں 700 ملین ڈالر کا ریکوڈک مائننگ پراجیکٹ اور 400 ملین ڈالر کا رسک پارٹیسپیشن فیسلٹی شامل ہے، جنہیں بعض اعتراضات کے باوجود آگے بڑھایا گیا۔
وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ، پاکستان CPF کے اہداف کے حصول اور اس کے تبدیلی لانے والے اثرات کے لیے ورلڈ بینک کی ملکی ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
ورلڈ بینک قیادت نے احد چیمہ کے خیالات کی تعریف کی اور CPF کے مؤثر نفاذ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا، اور پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے ادارے کے مستقل عزم کو دہرایا۔