جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی نازک سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی راہوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ خطے میں تیزی سے بگڑتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ امن و استحکام کے فروغ کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ روبیو نے دونوں ہمسایہ ممالک — پاکستان اور بھارت — پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
رابطے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی قیادت، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کو سراہا، اور واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت کی حالیہ جنگی کارروائیاں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے بلااشتعال حملوں نے نہ صرف پاکستانی عوام کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ یہ جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کے دفاع کے حق کو پوری طرح جائز بناتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے رابطے میں رہنے اور سفارتی چینلز کو مؤثر رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان ڈرون حملوں، میزائل تنصیبات اور عسکری تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور اقوام متحدہ کے نمائندے مسلسل فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کر رہے ہیں۔