لاہور میں واقع مینارِ پاکستان اس عہد کی یادگار ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد مملکت کا خواب دیکھا اور اس کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔ 14 اگست 1947ء کی صبح طلوع ہونے والی آزادی دراصل ایک نظریے کی مرہونِ منت تھی جس کا مقصد تھا مسلمانوں کے لیے ایسی ریاست کا قیام جہاں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزار سکیں۔ یہ نیا وطن “خلافتِ راشدہ” کی عملی جھلک بن کر دنیا کے سامنے اسلامی اصولوں کی حقانیت ثابت کرنے کا امین ٹھہرایا گیا۔
تحریکِ پاکستان کی نظریاتی بنیاد اور اسلاف کی قربانیاں
تحریکِ پاکستان کی اساس محض سیاسی آزادی نہیں بلکہ ایک مضبوط دینی و نظریاتی شعور تھا۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ایک علیحدہ ملت ہیں، جس کی شناخت کی بنیاد نہ مشترکہ وطن ہے نہ نسل، بلکہ صرف کلمۂ توحید ہے۔ علامہ محمد اقبال جیسے مفکر نے مسلمانوں کو خواب دکھایا کہ وہ ایک ایسی ریاست قائم کریں جہاں اسلام کے آفاقی اصولِ عدل و مساوات نظامِ حکومت کی بنیاد ہوں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسی نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے قوم کی قیادت کی۔ ان کے الفاظ میں: “مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید ہے… پاکستان کے مطالبے کا محرک کوئی ہندوؤں کی تنگ نظری یا انگریزوں کی چال نہ تھی بلکہ یہ اسلام کا بنیادی تقاضا تھا” ۔ مسلمانانِ ہند نے اس نظریے کی خاطر جان و مال کی بے دریغ قربانیاں دیں۔ لاکھوں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور بے شمار افراد نے آزادی کی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔ ان کا ایمان تھا کہ وہ ایک ایسی سرزمین حاصل کر رہے ہیں جہاں وہ غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔ قائداعظم نے واضح الفاظ میں اعلان کیا: “ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں” ۔ نئی ریاست کا پرچم بلند کرتے وقت یہ عہد تھا کہ پاکستان کو واقعی ایک اسلامی ماڈل ریاست بنایا جائے گا جو دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت کا عملی نمونہ پیش کرے۔
آج کا پاکستان: حالتِ حال اور ہمارے انحرافات
وقت گزرنے کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا پاکستان اپنے قیام کے مقصد پر پورا اتر رہا ہے؟ افسوس کہ سات دہائیوں بعد بھی ہم اس مثالی اسلامی ریاست کے خواب کو پوری طرح حقیقت کا روپ نہیں دے سکے۔ آئینِ پاکستان اگرچہ اسلام کو مملکت کا سرکاری دین قرار دیتا ہے اور قرآن و سنت کی بالادستی کا وعدہ کرتا ہے، لیکن عملی طور پر ہماری ریاست اور معاشرہ اس راستے سے کئی حوالوں سے بھٹکتے نظر آتے ہیں۔ عدل و انصاف کا وہ معیار میسر نہیں جو خلافتِ راشدہ کی یاد دلاتا تھا؛ قانون کی حکمرانی کمزور ہے اور امیر و غریب کے لیے الگ الگ پیمانے دکھائی دیتے ہیں۔ معاشی نظام آج بھی سود اور عدم مساوات کا شکار ہے جس سے اسلامی فلاحی معیشت کا تصور مجروح ہو رہا ہے۔ اجتماعی طور پر ہم بحیثیت قوم اس اتحاد سے محروم ہیں جس کی بنیاد قرآن نے “حبلُ اللہ” کو مضبوطی سے تھامنے میں رکھی تھی۔ فرقہ واریت اور گروہی مفادات نے ملت کی صفوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں حالانکہ قیامِ پاکستان کے وقت ہمارا نصب العین تھا کہ “ہمارے لیے صرف اسلام ہی کافی و شافی ہے” ۔
حکمران طبقے اور سیاسی اشرافیہ کے اعمال میں بھی وہ اخلاص و دیانت کم دکھائی دیتی ہے جس کی توقع ایک نظریاتی ریاست میں کی جاتی ہے۔ یہ تمام انحرافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے اسلاف کے وعدوں کو فراموش کر دیا ہے۔ قرآن مجید کا انتباہ ہے: “کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں؟” (الصف:2)۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہم بحیثیت قوم جس بحران کا شکار ہیں اس کی بڑی وجہ اپنے نظریاتی مقاصد سے دوری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے” (الرعد:11)۔ یہ آیت ہمیں دعوتِ فکر دے رہی ہے کہ ہم عہدِ وفا تازه کریں اور اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کریں ورنہ ہماری حالت بدلنے والی نہیں۔
موجودہ عالمی منظرنامہ اور پاکستان کا ممکنہ قائدانہ کردار
آج عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور خصوصاً عالمِ اسلام بے شمار چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں خانہ جنگی، بیرونی مداخلت اور سیاسی انتشار نے امتِ مسلمہ کو انتشار کا شکار کر رکھا ہے۔ کہیں فلسطین و مسجد اقصیٰ کے لیے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے تو کہیں شام و یمن کے مظلوم امن کو ترس رہے ہیں۔ ایسے میں مسلم دنیا ایک متحد اور مضبوط قیادت کی متلاشی ہے جو انہیں خارجی دباؤ اور اندرونی خلفشار سے نکال سکے۔ پاکستان کو اللہ نے بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے: یہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے، آبادی کے لحاظ سے دوسری بڑی مسلم قوم ہے، اور دفاعی اعتبار سے مضبوط فوجی طاقت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے نظریاتی تشخص کو اجاگر کرتے ہوئے داخلی طور پر ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست قائم کر لے تو وہ پورے عالمِ اسلام کے لیے رول ماڈل بن سکتا ہے۔ پھر یہی پاکستان مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لیے عالمی سطح پر مؤثر آواز بلند کر سکتا ہے اور مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی راہ ہموار کرنے میں پیش پیش ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اسی قیادتِ عالم کا مستحق بننے کا سبق دیا تھا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اقبال کے اس پیغام کا مفہوم ہے کہ اگر مسلمان سچائی، انصاف اور بہادری کو اپنا شعار بنالیں تو دنیا کی امامت و قیادت ان کے ہاتھ میں ہوگی۔ آج یہ شعر پاکستان کو آواز دے رہا ہے کہ وہ سچائی میں اصالت، انصاف میں عدلِ فاروقی اور شجاعت میں حیدری جرات پیدا کرے تاکہ امت کی کشتی کا ناخدا بن سکے۔ مشرقِ وسطیٰ کے پس منظر میں پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جو متحارب اسلامی ممالک کو قریب لائے اور امتِ مسلمہ کو ایک جسدِ واحد کی طرح حرکت میں لائے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب پاکستان عملی طور پر یہ ثابت کرے کہ اس کے پاس صرف عسکری قوت نہیں بلکہ ایک صالح نظریاتی وژن بھی ہے۔ پھر دنیا دیکھے گی کہ ایک نظریاتی طور پر بیدار، معاشی و سیاسی طور پر مستحکم اسلامی جمہوریہ پاکستان اقوامِ عالم کے درمیان امن اور انصاف کے قیام میں کیسا قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ خدا نے ہمیں قوت و وسائل عطا کر کے آزمائش میں ڈالا ہے؛ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس نعمت کا حق ادا کرتے ہوئے دنیا کے سامنے مثالی اسلامی کردار پیش کریں۔ اگر ہم نے اپنے گھر کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان مستقبل میں دنیا کے نقشے پر ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرے جس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ عدل و امن کا علمبردار اور مظلوموں کا سہارا ہے۔
اسلامی نظامِ حیات کی ضرورت اور ہماری ذمہ داریاں
قیامِ پاکستان کا اصل مقصد اسلامی نظامِ حیات کا نفاذ تھا، اس لیے آج پاکستان کے مسائل کا حل بھی اسی نظام کی طرف رجوع کرنے میں مضمر ہے۔ ایک مکمل اسلامی نظامِ زندگی میں فرد سے لے کر ریاست تک سب اپنے فیصلوں اور اعمال میں اللہ کی ہدایات کے تابع ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت صرف عبادات کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کے لیے راہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔ جب تک ہم بحیثیت قوم ان اصولوں کو عملی طور پر اختیار نہیں کریں گے، نہ دنیا میں سرخرو ہو سکتے ہیں نہ آخرت میں۔ اس منزل کے حصول کے لیے عوام، دانشوروں (بالخصوص علمائے کرام) اور ریاستی اداروں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی:
عوام: ہر فرد اپنے کردار سے اس اسلامی انقلاب کا داعی بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی انفرادی زندگی میں قرآن و سنت کی پیروی کریں اور سماج میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی نبوی سنت زندہ کریں۔ عام لوگ دیانت، محنت اور اتحاد کو اپنا شعار بنائیں اور قوم میں وہی جذبہ پیدا کریں جو تحریکِ آزادی کے وقت تھا۔ بطور شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی قیادت کو منتخب کریں جو ایمان دار اور اسلامی نظریے سے مخلص ہو، تاکہ ملک کی باگ ڈور اہل ہاتھوں میں آئے۔
دانشور اور علما: اہلِ قلم، اساتذہ، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد اور علمائے دین پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ طبقہ فکری رہنما کا درجہ رکھتا ہے جو قوم کی سمت متعین کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ نئی نسل کے قلوب میں نظریۂ پاکستان کی شمع روشن کریں اور لوگوں کو یاد دلائیں کہ اسلام ہی ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے
تعلیمی نصاب، خطبات اور میڈیا کے ذریعے اسلامی تاریخ، قرآنی تعلیمات اور اسلاف کی قربانیوں کو اجاگر کیا جائے تاکہ قومی شعور تازہ ہو۔ علما کو باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلکی ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے اور اگر ریاست یا معاشرہ کہیں اسلام کے راستے سے انحراف کرے تو دلائل اور حکمت کے ساتھ اصلاح کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بہرحال اہلِ علم پر پہلے واجب ہے۔
ریاستی ادارے: حکومت، مقننہ، عدلیہ اور فوج سمیت تمام مقتدر اداروں کو اپنے فرائض اللہ کی امانت سمجھ کر انجام دینے چاہییں۔ قرآن نے ہمیں مشاورت، انصاف اور امانت داری کے جو اُصول دیے ہیں وہی ہماری پالیسیاں اور قوانین تشکیل دینے کی بنیاد ہوں۔ قانون سازی میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کوئی قانون شریعتِ محمدیؐ سے متصادم نہ ہو۔ عدلیہ ظالم کو عبرت اور مظلوم کو فوری داد رسی مہیا کر کے ایسی نظیر قائم کرے کہ عوام کو انصاف پر کامل اعتماد ہو جائے۔ انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے اپنی قوت قوم کی خدمت اور تحفظ میں صرف کریں، اور کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کے لیے بے لاگ اقدام کریں۔ ہمارے حکمرانوں کو خلفائے راشدین کا اُسوہ اپناتے ہوئے خود کو “خادمِ ملت” سمجھنا ہوگا نہ کہ اقتدار کا مالک۔ یاد رکھیں، حدیث نبویؐ کے مطابق “تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا” ۔ پس حکمران اور افسران دونوں اپنے ہر عمل کے لیے خدا کے حضور جوابدہ ہیں۔ اسی احساسِ جوابدہی سے ایک دیانت دار اور خدا ترس حکمرانی جنم لے سکتی ہے۔
امیدِ نو اور عزمِ عمل
آج ہمیں پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے جو قیامِ پاکستان کے وقت ہر مسلمان کے دل میں موجزن تھا۔ یہ ملک جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ ایک عظیم نظریے کا مظہر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان وعدوں کی تجدید کریں جو اس مملکتِ خداداد کی بنیاد میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: “تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں گے انہیں وہ زمین میں خلافت عطا کرے گا جیسے پہلے لوگوں کو کی” (النور:55)۔ یہ نویدِ ربانی پاکستانی قوم کے لیے بھی ہے کہ اگر وہ اپنے ایمان کو تازہ کریں اور اپنے اعمال کو اسلام کے تابع کر لیں تو دنیا میں قیادت و سیادت ان کا مقدر ہوگی۔ آج ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی پاکستان ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے اور پوری امت کے لیے روشنی کی کرن بھی۔ آخر میں آئیں ایک بار پھر عہد کریں کہ ہم "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے پرچم تلے متحد ہو کر پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ماڈل ریاست بنائیں گے۔ یہی ہماری اسلاف کی آرزو تھی اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔
جب پاکستان میں قرآن و سنت کا نظام عملاً نافذ ہوگا تو یقیناً یہ ملک دنیا بھر کے لیے رول ماڈل بنے گا اور اسلامی ایٹمی پاکستان ایک عالمی قائد کا کردار ادا کرے گا۔ ان شاء اللہ!
("اور تم ہی سربلند ہوگے اگر تم مومن ہو” – آلِ عمران: 139)