اقوامِ متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ، یہ قدم پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی پانی کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ، وہ تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
اسحاق ڈار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا موضوع ‘کثیر الجہتی اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے عالمی امن و سلامتی کو فروغ دینا’تھا۔ انہوں نے 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو ایک سفارتی کامیابی قرار دیا جس نے دہائیوں تک دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھا۔
انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ، وہ پانی کو بطور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، یہ اقدام نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ان لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے جو دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2788، جس میں پرامن تنازع حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کا کہا گیا ہے، کا خیر مقدم کیا اور اس پر فوری اور مساوی عمل درآمد پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ، وہ کثیر الجہتی کو فروغ دے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے کردار کو فعال بنائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، پرامن حل نہ صرف قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، بلکہ عالمی استحکام کے لیے اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ، بین الاقوامی قوانین کا انتخابی استعمال سلامتی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور تنازعات کو طول دیتا ہے۔ انہوں نے طاقت کے استعمال، قبضے اور حقِ خودارادیت کی نفی کے خاتمے پر زور دیا۔
وزیر خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ثالثی کردار کو فعال کرنے، اور اس مقصد کے لیے Mediation Support Unit کی استعداد بڑھانے کی تجویز دی۔
فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کی بے حسی اور انصاف میں امتیازی سلوک کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ، پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے سفارت کاری، مذاکرات اور پرامن حل کا حامی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ، جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر قدیم ترین تنازعات میں سے ایک ہے اور اس کا حتمی حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ، کوئی بھی ظاہری یا نمائشی اقدام کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔