تقریبا ایک ہفتے تک جاری رہنے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد حکومتِ پاکستان نے اتوار کے روز قومی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، تاہم ٹیم کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کے سرکاری ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ، “حکومتِ پاکستان آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2026 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرکت کی منظوری دیتی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں حصہ نہیں لے گی۔”
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں آئی سی سی سے متعلق معاملات اور ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا ممکنہ بائیکاٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ملاقات کے بعد محسن نقوی نے بتایا تھا کہ وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور حتمی فیصلہ چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔
پاکستان کی شرکت پر سوالات اس وقت اٹھے جب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکال کر اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا اعلان کیا۔ بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ کشیدہ سیاسی تعلقات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش نے درخواست کی تھی کہ اس کے میچ سری لنکا منتقل کر دیے جائیں، تاہم آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے آغاز کے قریب ہونے کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی کو ناممکن قرار دے دیا۔
اس فیصلے سے قبل محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والے سلوک کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق بھی ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے، تاہم آئی سی سی کے طے کردہ انتظامات کے تحت پاکستان اپنے تمام میچ سری لنکا میں کھیلے گا۔ یہ انتظام “ہائبرڈ ماڈل” کے تحت کیا گیا ہے، جو اس سے قبل 2025 کے چیمپئنز ٹرافی میں بھی اپنایا گیا تھا، جب بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کیا تھا اور اپنے میچ دبئی میں کھیلے تھے۔