حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، چاہے وہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہوں یا مستقل بنیاد پر، اب بیک وقت تنخواہ اور پنشن حاصل نہیں کر سکیں گے، بلکہ انہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
وزارت خزانہ کے ریگولیشن ونگ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ، اگر کوئی پنشنر 60 سال کی عمر کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرے تو وہ یا تو پنشن برقرار رکھ سکتا ہے یا نئی ملازمت کی تنخواہ وصول کر سکتا ہے۔
اس سے پہلے، دوبارہ بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین اکثر ایک ہی وقت میں پنشن اور تنخواہ دونوں کے فوائد حاصل کرتے تھے، جس سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑتا تھا، بلکہ نئی بھرتیوں اور دیگر ملازمین کی ترقی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی تھی۔ حکومت کا یہ اقدام پنشن اصلاحات کا حصہ ہے جس کا مقصد پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانا ہے اور یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کا ایک اہم تقاضا بھی ہے۔
یہ فیصلہ سب سے پہلے مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں اسحاق ڈار کے دور میں سامنے آیا تھا، لیکن اس پر عملی پیشرفت موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے دور میں ہوئی، جب پاکستان نے آئی ایم ایف کے نئے معاہدے پر دستخط کیے۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے سول ملازمین اور یکم جولائی 2025 کے بعد مسلح افواج کے اہلکاروں پر یہ اسکیم لاگو ہوگی۔ اس اسکیم میں ملازمین اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد اور حکومت 20 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گی۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے آئندہ بجٹ میں 10 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وفاقی حکومت کے پنشن اخراجات میں رواں مالی سال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 821 ارب روپے سے بڑھ کر ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ مسلح افواج کے پنشن اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شہری پنشن اخراجات میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
جنوری میں حکومت نے مزید پنشن اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جن میں ایک سے زیادہ پنشنز کو ختم کرنے اور پنشن کی بنیاد آخری تنخواہ کے بجائے گزشتہ 24 ماہ کی اوسط تنخواہ پر منتقل کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم کچھ حلقے اب بھی دوبارہ ملازمت پر تنخواہ اور ایک پنشن ساتھ لینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔