وزیراعظم پاکستان کی اسرائیل-ایران جنگ رکوانے کے لیے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تنازعے نے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے اور پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی طاقتیں ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کے لیے کردار ادا کریں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے دن ہی انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ ایرانی صدر سے بات چیت کے دوران انہوں نے پاکستانی قوم کی جانب سے یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا حامی رہا ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کو بھی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی جارحیت میں اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جہاں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں نائب وزیراعظم جلد ترکیہ میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف بھی دیا گیا ہے۔ خاص طور پر 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ سرکاری شعبے کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے اور ملکی معیشت مشکل حالات کے باوجود استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں دیوالیہ پن کے خطرے کے باوجود حکومت نے ملک کو بچایا۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں امریکی و یورپی دوروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وفد نے وہاں قومی مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دشمن کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں، حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور سیکیورٹی اداروں کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔