پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و توانائی معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم تجارتی و توانائی معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے اسلام آباد نے پاکستانی برآمدات پر محصولات میں ممکنہ کمی کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو پاکستان کے توانائی ذخائر کی ترقی کے لیے نیا سنگِ میل قرار دیا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے سے دوطرفہ محصولات میں کمی، خصوصاً پاکستانی برآمدات پر امریکی محصولات میں کمی متوقع ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے اپریل میں پاکستان کی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں 90 روز کے لیے معطل کر دیا گیا تاکہ دو طرفہ تجارتی مذاکرات جاری رکھے جا سکیں۔

سابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے وسیع تیل ذخائر کی ترقی پر مشترکہ کام کریں گے۔ ہم اس وقت اس آئل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

پاکستانی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر شعبہ جات میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، جنہوں نے واشنگٹن میں مذاکرات کی قیادت کی، نے معاہدے کو “دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند” قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد صرف فوری تجارتی مفادات سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ دونوں ممالک ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ چند دنوں میں ممکن ہے۔ انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد اس بات کا عندیہ دیا تھا۔دونوں جانب سے جاری بیانات میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ظاہر کیا گیا ہے، جب کہ پاکستانی حکام کے حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن کے متعدد دورے بھی اس ضمن میں سامنے آئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کے سابقہ دورِ حکومت میں بھی امریکہ نے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے نئے سرے سے طے کیے تھے اور غیرمنصفانہ تجارتی تعلقات کے الزام میں ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، جس پر کئی ماہرینِ معیشت نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں