بنگلہ دیش میں خسرے کی خطرناک وبا کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مارچ 2026 کے وسط سے 9 اکتوبر تک ملک میں خسرے کے تقریباً دو لاکھ دو ہزار مشتبہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے 22 ہزار کی لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق ہوئی۔ اس دوران ایک ہزار 147 اموات رپورٹ کی گئیں، جن میں 94 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھیں۔ بنگلہ دیش رواں سال خسرے کے سب سے زیادہ مشتبہ کیسز رپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں بچوں کی حفاظتی ٹیکوں کی مہم ماضی میں خاصی کامیاب رہی تھی، تاہم 2024 کے سیاسی بحران اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ویکسینیشن کے نظام کو شدید متاثر کیا۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں خسرے کی پہلی خوراک کی شرح 96 فیصد اور دوسری خوراک کی شرح 93 فیصد تھی، لیکن 2025 میں یہ شرح بالترتیب 90 اور 86 فیصد رہ گئی۔ ماہرین کے مطابق خسرے کی وبا کو روکنے کے لیے تقریباً 95 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ضروری ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش میں وبا کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں بچوں کی ویکسینیشن میں کمی، نامکمل سرکاری اعداد و شمار، ناکافی منصوبہ بندی اور دور دراز علاقوں تک طبی عملے کی محدود رسائی شامل ہیں۔ اپریل اور مئی میں ہنگامی مہم کے دوران تقریباً دو کروڑ بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے، تاہم بعد میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ لاکھوں بچے اس مہم سے محروم رہ گئے تھے۔ ایک دوسری سرکاری طبی مہم کے اعداد و شمار میں اسی عمر کے بچوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ زیادہ سامنے آئی۔
وبائی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمال مشرقی ضلع سلہٹ شامل ہے، جہاں متعدد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہیں لگ سکے۔ دو سالہ ارمان حسین جولائی میں خسرے کے باعث جاں بحق ہوا، جبکہ اس کی چار سالہ بہن بیماری سے صحت یاب ہو گئی۔ ارمان کے والد کے مطابق ان کے گاؤں میں طبی کارکن بچے کی وفات کے بعد پہنچے۔ اسی علاقے میں نو ماہ کی لبیبہ اختر بھی جون میں خسرے کے باعث جان سے گئی۔ اس کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں کسی طبی کارکن نے ہنگامی ویکسینیشن کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔
وبا نے بنگلہ دیش کے ہسپتالوں پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے۔ سلہٹ کے 100 بستروں پر مشتمل شہید شمس الدین احمد ہسپتال میں ستمبر کے دوران ایک موقع پر 178 مریض زیر علاج تھے۔ ماہرین کے مطابق خسرہ انتہائی تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور غذائی قلت یا علاج کی ناکافی سہولیات والے علاقوں میں اس سے اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سلہٹ میں 180 بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن میں معمولی کمی بھی بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ وبا پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین نے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو بہتر بنانے، بچوں کے درست اعداد و شمار مرتب کرنے اور دور دراز علاقوں تک طبی خدمات پہنچانے پر زور دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مشیر مارک جٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی صورتحال دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک اہم انتباہ ہے، کیونکہ وبا پھیلنے کے بعد اس پر قابو پانے کے مقابلے میں بروقت ویکسینیشن زیادہ محفوظ، آسان اور کم خرچ طریقہ ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ویکسینیشن کی کمی دور نہ کی گئی تو مزید بچے اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔