پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں امن و امان سے متعلق علاقائی جرگوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں قبائلی عمائدین نے واضح کیا ہے کہ، نہ تو کسی قسم کا آپریشن قبول ہے اور نہ ہی نقل مکانی۔
پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والے جرگے میں ضلع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی عمائدین کے ساتھ ساتھ منتخب عوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر پولیس حکام بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، جرگے کے دوران عمائدین نے پانچ اہم تجاویز پیش کیں۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ، اگر حکومت امن کی ضمانت دے تو قبائل ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ، دہشت گردی کے خلاف تمام فریق متفق ہیں کیونکہ دہشتگرد سب کے مشترکہ دشمن ہیں۔
جرگے میں واضح طور پر کہا گیا کہ، قبائلی عوام آپریشن یا جبری نقل مکانی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
عمائدین نے تجویز دی کہ، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں قبائلی زعما اور دیگر فریقین پر مشتمل ایک نمائندہ جرگہ تشکیل دیں، جو افغان حکومت اور عوام کے ساتھ مؤثر اور سنجیدہ مذاکرات کرے۔
مزید برآں، جرگے میں مقامی سطح پر ہونے والے جرگوں کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا اور اس عمل کو مزید بامقصد بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ اس کے نتائج دیگر علاقوں میں بھی امن و استحکام کا سبب بن سکیں۔