حکومت پاکستان کا 5 سال تک استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ، معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

حکومت پاکستان نے پانچ سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ، یہ اقدام عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ستمبر 2025 سے پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی تجارتی بنیادوں پر درآمد کی اجازت دی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق، یکم جولائی 2026 سے پرانی گاڑیوں کی عمر سمیت درآمدات پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، البتہ معیار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حکومت کا چار سالہ منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد نئی اور پرانی گاڑیوں پر یکساں ٹیکس لاگو کرنا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ،اس وقت کمرشل درآمدات پر مکمل پابندی ہے، چاہے گاڑی ایک ماہ پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ، بیگیج رولز کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو تین سال پرانی کار اور پانچ سال پرانی دیگر گاڑیاں مخصوص شرائط کے ساتھ درآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

حکام نے بتایا کہ، مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں پانچ سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت مل جائے گی، لیکن ان پر موجودہ ڈیوٹی و ٹیکس کے ساتھ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہو گی، جو آئندہ برسوں میں بتدریج کم کی جائے گی۔ 2026 میں یہ شرح 30 فیصد، 2027 میں 20 فیصد، 2028 میں 10 فیصد تک لائی جائے گی، اور 2029 میں مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔

یہ واضح نہیں کہ، بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیمز کے تحت درآمد ہونے والی گاڑیوں پر بھی یہ اضافی ڈیوٹی عائد ہوگی یا نہیں۔ تاہم بیگیج اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد کے لیے کم از کم 700 دن کی بیرون ملک رہائش لازمی ہو گی، اور گاڑیاں ماحولیاتی اور معیار کے عالمی اصولوں پر پوری اترنی چاہئیں۔

وزارت تجارت کے مطابق، جولائی 2026 سے گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی، لیکن معیار سے متعلق شرائط بدستور نافذ رہیں گی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ، آئندہ پانچ سال کے دوران نئی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی اور ٹیکسز بتدریج کم کیے جائیں گے، جن کی حتمی شرح 15 فیصد تک لانے کا ہدف ہے۔

پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ (PFMA) میں ترمیم مسترد
کمیٹی نے وزارت خزانہ کی جانب سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کر دیا کہ، موجودہ قانون پہلے ہی اداروں کو پارلیمان کے ذریعے اختیارات دیتا ہے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو باقاعدہ ترمیمی مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ، وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کے لیے پورٹ قاسم اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن جواب نہیں ملا۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے ’سرپلس منافع‘ اور ’غیر فعال نقدی‘ کی اصطلاحات کی وضاحت طلب کی، جس پر حکام نے بتایا کہ، سرپلس منافع سے مراد سالانہ مالی فائدہ ہے، جبکہ غیر فعال نقدی وہ رقم ہے جو مالی سال کے دوران استعمال نہ ہونے کے باعث اکاؤنٹس میں بچ جاتی ہے۔ انوشہ رحمان نے تجویز دی کہ، خود مختار ادارے اور کمپنیاں بھی PFMA کے دائرے میں آنی چاہئیں، جسے وزارت نے تسلیم کر لیا۔

کسٹمز اصلاحات
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کمیٹی کو کسٹمز اصلاحات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ، 35 فیصد ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے، اور نئی شرحوں کی تجاویز دی گئی ہیں جو 5، 10 اور 15 فیصد ہوں گی، تاکہ موجودہ 3، 11 اور 16 فیصد کی جگہ لے سکیں۔

مزید 916 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جائے گی، جس سے زیرو ریٹڈ اشیاء کی تعداد 3,117 ہو جائے گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں