نیپال اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع ایک بار پھراس وقت شدت اختیار کر گیا، جب نئی دہلی نے متنازع ہمالیائی راستے سے مذہبی یاترا دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز بھارت کے اس فیصلے پر باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود حساس سرحدی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
تنازع کا مرکز لیپو لیکھ پاس ہے، جو بھارت، نیپال اور تبت کے سنگم پر واقع ہے۔ نیپال کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ تاریخی طور پر اس کا حصہ ہے، جس کی بنیاد 1816 کے سوگولی معاہدے پر رکھی جاتی ہے جو اس نے برطانوی دور میں کیا تھا۔
نیپال حکومت کے مطابق لمپیادھورا، لیپو لیکھ اور کالا پانی کے علاقے اس کی خودمختار سرزمین کا حصہ ہیں، اور اس مؤقف پر حکومت واضح اور مضبوط ہے۔
دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیپو لیکھ کو 1954 سے ہندو، بدھ مت، جین اور بون مذہب کے پیروکار کیلاش مانسرور یاترا کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی نیا اقدام نہیں ہے اور ایسے دعوے تاریخی حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق یکطرفہ طور پر سرحدی دعوؤں کو بڑھانا ناقابلِ قبول ہے۔
یہ تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب بھارت نے اعلان کیا کہ اس نے چین کے ساتھ مل کر لیپو لیکھ کے راستے یاترا دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو کرونا کے باعث 2020 سے معطل تھی۔
منصوبے کے مطابق تقریباً 500 یاتری بھارتی ریاست اتراکھنڈ سے ہوتے ہوئے لیپو لیکھ پاس کے ذریعے تبت میں داخل ہوں گے، جبکہ ایک متبادل راستہ بھارتی ریاست سکم سے بھی استعمال کیا جائے گا۔