امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں قتل ہونے والے بنگلہ دیشی طالبِ علم جمیل احمد لیمون کی میت پیر کی صبح ڈھاکہ پہنچا دی گئی ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق امارات ایئرلائن کی پرواز لیمون کی میت کو لے کر صبح 8 بج کر 47 منٹ پر حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی۔
جمیل احمد لیمون اور ناہیدہ سلطانہ برشتی امریکہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور 16 اپریل سے لاپتا تھے۔ اگلے روز ان کے ایک دوست نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس بارے میں اطلاع دی تھی۔
استغاثہ کے مطابق، لیمون کے جسم پر چاقو کے کئی وار کے نشانات تھے اور انہیں باندھا گیا تھا۔ موبائل فون لوکیشن اور گاڑی کے جی پی ایس ڈیٹا کی مدد سے 24 اپریل کو ان کی لاش برآمد کی گئی، جبکہ دو روز بعد برشتی کی لاش قریبی پانی سے ملی۔
پولیس نے چند روز بعد مرکزی ملزم ہشام صالح ابو غاربیہ کو اس کے والدین کے گھر سے گرفتار کیا۔ عدالت نے اسے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں یا گواہوں سے رابطہ کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
لیمون کی نمازِ جنازہ 30 اپریل کو فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں واقع اسلامک سوسائٹی آف ٹمپا بے ایریا میں ادا کی گئی جس میں ان کے ساتھی طلبہ، اہلِ خانہ، بنگلہ دیشی سفارتی حکام اور کمیونٹی کے افراد شریک ہوئے۔
ادھر بنگلہ دیش کی نائب وزیرِ خارجہ شمع عبید نے کہا ہے کہ حکومت امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ناہیدہ سلطانہ برشتی کی میت وطن واپس لانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی رضامندی حاصل کر لی گئی ہے۔ بنگلہ دیشی سفارت خانہ اور قونصل خانہ اس سلسلے میں امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔