امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ، امریکہ نیٹو اتحادیوں کے توسط سے یوکرین کو جدید اور اعلیٰ درجے کے ہتھیار فراہم کرے گا، اور ساتھ ہی روس کو خبردار کیا ہے کہ، اگر آئندہ 50 دنوں میں جنگ بندی پر اتفاق نہ ہوا تو روس پر بڑے پیمانے پر تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کیے جائیں گے۔
یہ اعلان انہوں نے واشنگٹن میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل، مارک روٹے سے ملاقات کے بعد کیا، جہاں ٹرمپ نے کہاکہ،ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ، یوکرین اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قابل ہو۔
جنرل روٹے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ، امریکہ نے نیٹو کے ذریعے یوکرین کو بڑے پیمانے پر ضروری فوجی ساز و سامان مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی مالی ذمہ داری یورپی ممالک اٹھائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ، کئی یورپی ممالک یوکرین کے دارالحکومت، کیئو کو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز فراہم کریں گے، جن پر یوکرین روس کے تباہ کن فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے انحصار کرتا ہے، اور ان سسٹمز کی جگہ بعد میں امریکہ کی جانب سے نئے متبادل فراہم کیے جائیں گے۔
تاہم، دونوں رہنماؤں نے فراہم کیے جانے والے عسکری سازوسامان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اس موقع پر روٹے نے روسی صدر، ولادیمیر پوتن کو بالواسطہ پیغام دیتے ہوئے کہاکہ،اگر میں پوتن کی جگہ ہوتا تو ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کرتا کہ، آیا یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے یا نہیں۔