چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ شمالی کوریا: کیا چین نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو خاموشی سے قبول کر لیا؟

چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ شمالی کوریا: کیا چین نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو خاموشی سے قبول کر لیا؟

چینی صدر شی جن پنگ نے 7 برس بعد شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے، جسے خطے کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اس دورے کی سب سے نمایاں بات چین اور شمالی کوریا کے سرکاری نیوز ایجنسیز کی جانب سے دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں پر خصوصی رپورٹیں شائع کرنا تھی۔ اس کے برعکس، ملاقاتوں میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، شی جن پنگ کی یہ خاموشی دراصل اس دورے کا سب سے اہم پیغام ہو سکتی ہے۔

ماضی میں چین شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ شی جن پنگ نے اپنے 2019 کے دورۂ شمالی کوریا کے دوران بھی ’’ڈی نیوکلیئرائزیشن‘‘کے عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کی بات کی تھی۔ تاہم اس مرتبہ نہ تو شی جن پنگ نے عوامی سطح پر اس موضوع کا ذکر کیا اور نہ ہی سرکاری بیانات میں اسے نمایاں جگہ دی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، چین اب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ایک ناقابلِ واپسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے لگا ہے۔ کم جونگ اُن کئی برسوں سے اصرار کرتے رہے ہیں کہ جوہری ہتھیار شمالی کوریا کی قومی سلامتی اور بقا کی ضمانت ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے جوہری مواد تیار کرنے کے ایک نئے مرکز کا افتتاح بھی کیا اور اعلان کیا کہ ملک کی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

چین نے ہمیشہ شمالی کوریا میں استحکام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر شمالی کوریا میں سیاسی یا معاشی بحران پیدا ہوا تو لاکھوں افراد سرحد عبور کر کے چین کا رخ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اکثر پیانگ یانگ پر براہِ راست دباؤ ڈالنے سے گریز کرتا آیا ہے۔

اس دورے کے دوران کم جونگ اُن نے ایک بار پھر تائیوان کے معاملے پر چین کے ’’ون چائنا‘‘ مؤقف کی حمایت کی، جبکہ شی جن پنگ نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی پیشکش کی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے اس دورے کا ایک اہم پہلو چین کی خاموشی ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے یہ امید کرتا رہا ہے کہ چین شمالی کوریا کو جوہری پروگرام محدود کرنے یا ترک کرنے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ تاہم حالیہ پیش رفت سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بیجنگ اب جوہری پروگرام کو اپنی اولین ترجیح نہیں سمجھتا بلکہ خطے میں استحکام اور اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں