امریکی خلائی ادارے ناسا کی تقریباً 22 سال پرانی نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری بدھ، 4 نومبر کو زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جانے کے قریب ہے۔ تقریباً 1,452 کلوگرام وزنی اس خلائی دوربین کا بیشتر حصہ فضا میں جل کر تباہ ہونے کی توقع ہے، تاہم کچھ ٹکڑے زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔
امریکی اسپیس فورس کے اندازے کے مطابق ملبے سے کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا امکان 2,100 میں سے ایک ہے۔ ناسا کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تخمینے کے مطابق دوربین کے فضا میں داخل ہونے کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے بتایا گیا تھا، تاہم دیگر اداروں کے اندازوں میں فرق موجود ہے اور حتمی وقت غیر یقینی ہے۔
تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی یہ دوربین نومبر 2004 میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ اسے ابتدائی طور پر صرف دو سال کے مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے تقریباً 22 سال تک گیما شعاعوں کے دھماکوں، بلیک ہولز اور دیگر خلائی مظاہر کا مطالعہ کیا۔ ناسا نے 20 اکتوبر کو اس کے سائنسی آپریشنز ختم کر دیے تھے۔
دوربین کو زمین سے مزید بلندی پر پہنچانے کے لیے جولائی میں امریکی کمپنی کیٹالسٹ کا خصوصی خلائی جہاز ‘لنک’ بھیجا گیا تھا، تاہم تکنیکی مسائل کے باعث یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ لنک نے بعد میں دیگر خلائی تجربات جاری رکھے اور 25 ستمبر کو خود بھی زمین کی فضا میں داخل ہو گیا۔