اے آئی ٹولز مسترد کرنے والے اسکولوں کے طلبہ کے لیے گوگل سرچ بھی بند کر دی جائے گی

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے منگل کو اعلان کیا کہ اسکولوں میں طلبہ کے اکاؤنٹس پر اس کے اے آئی فیچرز اور گوگل سرچ اس وقت تک بند رہیں گے جب تک اسکول انتظامیہ انہیں واضح طور پر آن نہ کرے۔ ان میں جیمنی، جیمنی نوٹ بک اور کلاس روم میں استعمال ہونے والا جیمنی شامل ہے۔

اسکول ہر ٹول کو الگ الگ آن یا آف کر سکیں گے، لیکن جو اسکول گوگل سرچ برقرار رکھنا چاہتے ہیں وہ اے آئی کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکیں گے۔ اے آئی ٹولز مسترد کرنے والے اسکولوں کے طلبہ گوگل سرچ سے بھی محروم ہو جائیں گے اور انہیں اسکول کی طرف سے پیغام دکھائی دے گا کہ سرچ دستیاب نہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ نظام آئندہ سال کے آغاز سے لاگو ہوگا۔

گوگل کے وائس پریزیڈنٹ برائے تعلیم کرس فلپس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سرچ اور اے آئی آپس میں گہرے طور پر جڑ چکے ہیں۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سرچ کو سیکھنے کے لیے مزید بہتر بنا رہی ہے، جس میں مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے میں رہنمائی بھی شامل ہے، تاکہ طلبہ کو ہوم ورک کے فوری جوابات نہ مل جائیں۔

اس فیصلے پر ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کی جانب سے فوری تنقید سامنے آئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گوگل اپنی سرچ کی اجارہ داری کے ذریعے اسکولوں کو اے آئی اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ ایک ناقد نے کہا کہ جب عوام میں اسکولوں کے اندر اے آئی کے استعمال کی مخالفت بڑھ رہی ہے، گوگل ان اداروں کو سزا دینے کا اشارہ دے رہا ہے جو اس کی بات نہ مانیں۔

ایک اور ناقد نے اسکولوں پر زور دیا کہ جیسے ہی گوگل اے آئی ٹولز بند کرنے کا آپشن دے، وہ انہیں بند کر دیں۔ ادھر سرچ انجن ڈک ڈک گو نے گوگل کی وضاحت سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کو بند نہ کرنے کی کوئی تکنیکی وجہ نہیں، کیونکہ اے آئی اوورویوز سرچ کا ایک فیچر ہے، بالکل نقشوں، پروازوں یا موسم کی طرح۔ اس کے مطابق اس کے اپنے سرچ انجن میں صارفین اے آئی جوابات کم یا مکمل بند کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں