امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے دو خلاباز سنیتا ولیمز اور بُچ ولمور جو گزشتہ نو ماہ سے خلا میں پھنسے ہوئے تھے، بالآخر آج زمین پر واپسی کے لیے روانہ ہوں گے۔ خلائی جہاز بوئنگ اسٹار لائنر میں تکنیکی خرابی کے باعث دونوں خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں محصور تھے، تاہم اب ناسا نے ان کی واپسی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
ناسا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، خلابازوں کی زمین پر واپسی کا عمل 18 مارچ کو شروع ہوگا۔ اسپیس ایکس کا جدید کریو ڈریگن خلائی جہاز ان خلابازوں کو واپس لانے کے لیے اتوار کے روز آئی ایس ایس پر پہنچ چکا ہے۔ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ خلابازوں کی لینڈنگ فلوریڈا کے ساحل پر متوقع ہے، اور اس تاریخی لمحے کو براہِ راست نشر بھی کیا جائے گا۔
خلاباز سنیتا ولیمز اور بُچ ولمور گزشتہ سال 5 جون کو بوئنگ اسٹار لائنر کے ذریعے خلائی مشن پر روانہ ہوئے تھے، اور انہیں صرف ایک ہفتے بعد واپس آنا تھا، لیکن خلائی جہاز میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی تاخیر کا شکار ہو گئی۔ ابتدا میں ان کی مارچ کے آخر میں واپسی متوقع تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر اس مشن کو تیز کر دیا گیا۔
ناسا کے مطابق، اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ان خلابازوں کی جلد واپسی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ اسپیس ایکس کے تیار کردہ کریو ڈریگن کیپسول کے ذریعے یہ خلاباز واپس زمین پر اتریں گے۔ اس تاریخی سفر میں ناسا کے خلا نورد نک ہیگ اور روسکوسموس کے روسی خلا باز الیکژاند گوربونوو بھی کریو ڈریگن میں سوار ہوں گے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ یہ تاریخی واپسی براہ راست نشر کی جائے گی۔ نشریات کا آغاز کریو ڈریگن کے ہیچ بند کرنے کے مرحلے سے ہوگا، جس کے بعد خلا باز زمین کی طرف اپنا سفر شروع کریں گے۔
یہ لمحہ نہ صرف ناسا بلکہ عالمی خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جہاں جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تعاون، اور انسانی عزم کی بدولت ایک بڑے چیلنج پر قابو پایا جا رہا ہے۔