ڈیجیٹل صحافت اور تربیت کے مواقع، تاشقند اردو اور پی ایف یو سی کے درمیان معاہدہ

لاہور میں تاشقند اردو ڈیجیٹل اور پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران چیئرمین تاشقند اردو، ذبیح اللہ بلگن اور چیئرمین پی ایف یو سی، فرخ شہباز وڑائچ نے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت پی ایف یو سی ممبران تاشقند اردو کے لیے ادارے کی ایڈیٹوریل پالیسی کے مطابق تحریریں لکھ سکیں گے، جبکہ تاشقند اردو ڈیجیٹل انہیں جدید صحافتی میدان میں مواقع فراہم کرے گا۔

اس موقع پر چیئرمین تاشقند اردو، ذبیح اللہ بلگن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (پی ایف یو سی) کے ساتھ الحاق خوش آئند قدم ہے، جس سے تاشقند اردو کو با صلاحیت اور عملی صحافت سے وابستہ نوجوان میسر آئیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ، تاشقند اردو ڈیجیٹل پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرگرم ہے اور یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر روابط بڑھانے اور نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

چیئرمین پی ایف یو سی، فرخ شہباز وڑائچ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ، صحافت کے اسرار و رموز بدل چکے ہیں، ہمیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ، اس معاہدے کے تحت نوجوان لکھاریوں اور صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا ٹولز، ڈیٹا جرنلزم اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی تربیت دی جائے گی، ساتھ ہی ورکشاپس اور سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

سی ای او تاشقند اردو حافظ محمد حسان نے اپنے خطاب میں کہا کہ، وقت آ گیا ہے صحافی اور طلباء خود کو اپ گریڈ کریں۔ اس پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجیز جیسے AI اور AR تک رسائی اور تربیت فراہم کی جائے گی جس سے نوجوان عملی طور پر زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔

تقریب میں موجود صدر پی ایف یو سی، ساجد خان نے کہا کہ، تاشقند اردو ڈیجیٹل ایک نمایاں ادارہ ہے اور یہ پلیٹ فارم صحافیوں کو مواد کی ترویج کے مواقع فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے خواتین صحافیوں کے لیے بھی خصوصی مواقع پیدا ہوں گے اور صنفی مساوات کو فروغ ملے گا۔

اس تقریب میں پی ایف یو سی کے سابق صدر عبدالماجد ملک، سیکریٹری جنرل فرید رزاقی، اظہر تھراج، ادیب یوسفزئی، محمد حسان خان سمیت تاشقند اردو کی ٹیم جہانگیر خان، زرتاج بشیر، ارسل بلگن ، محمد طیب اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں