ماسکو میں امریکی وفد کے ارکان اسٹیو وٹکوف اور جیئرڈ کشنیر نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے پانچ گھنٹے پر محیط مذاکرات کیے، جن کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک مؤثر امن منصوبہ پیش کرنا تھا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے جاری بحران کے ممکنہ حل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدر پوٹن نے اجلاس کے دوران یورپی ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی امن منصوبے کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے اور اگر یورپ کسی بھی صورت جنگ کے لیے تیار ہے تو روس بھی اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے حقیقی تعاون کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کئی رکاوٹیں ابھی برقرار ہیں۔
روسی صدر کے مشیر نے کہا کہ ملاقات بامعنی رہی اور امریکی وفد کی کوششیں بحران کے حل کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں، تاہم ابھی تک عالمی سطح پر روس اور یوکرین کے تنازع کے مکمل حل تک پہنچنے کے لیے کافی کام باقی ہے۔ مشیر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تعاون اور مذاکراتی عمل میں شفافیت بحران کے خاتمے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی۔
امریکی وفد نے ملاقات کو ایک مثبت قدم قرار دیا، اور کہا کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور تنازع کے حل کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں زور دیا گیا کہ مذاکرات کا اصل مقصد خونریزی کو کم کرنا اور یوکرین میں پائیدار امن قائم کرنا ہے