روزانہ زیادہ قدم چلنے کو طویل عرصے سے بہتر صحت اور قبل از وقت موت کے کم خطرے سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم نئی تحقیق سے اشارہ ملا ہے کہ صرف قدموں کی تعداد ہی نہیں بلکہ چلنے کی رفتار بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق روزانہ 5 ہزار سے کم قدم چلنے والے افراد اگر نسبتاً تیز رفتار سے چلیں تو ان میں موت کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا۔ تحقیق میں 7 ہزار 500 سے 10 ہزار قدم روزانہ چلنے والوں میں مجموعی طور پر قبل از وقت موت کا خطرہ سب سے کم پایا گیا۔
محققین نے یو کے بائیوبینک کے ایک لاکھ سے زائد شرکا کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ شرکا کی عمریں تحقیق میں شمولیت کے وقت 40 سے 69 سال کے درمیان تھیں اور انہوں نے مسلسل سات دن ایکٹیویٹی ٹریکر استعمال کیے، جن سے روزانہ قدموں کی تعداد اور چلنے کی شدت ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 5 ہزار سے کم قدم لینے والے افراد میں اگر چلنے کی رفتار 80 سے زیادہ قدم فی منٹ کے قریب تھی تو ان میں نسبتاً آہستہ چلنے والے افراد کے مقابلے میں موت کا خطرہ کم پایا گیا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ جو افراد بہت زیادہ قدم نہیں چل سکتے، وہ اپنی معمول کی چہل قدمی کی رفتار بڑھا کر ممکنہ طور پر صحت کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مصنف پروفیسر ایمانوئل اسٹاماٹاکس کے مطابق قدموں کی تعداد اور چلنے کی شدت دونوں اہم ہیں، تاہم ہر شخص کے لیے ایک ہی ہدف ضروری نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے مؤثر معمول وہ ہے جسے کوئی فرد مستقل طور پر جاری رکھ سکے۔
ماہر امراض قلب ڈاکٹر کیون شاہ کے مطابق زیادہ حرکت یا نسبتاً زیادہ شدت سے جسمانی سرگرمی بلڈ پریشر، وزن اور انسولین کی حساسیت بہتر بنانے سمیت مجموعی قلبی اور میٹابولک صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ چند منٹ کی جسمانی سرگرمی بھی عدم فعالیت کے مقابلے میں بہتر ہے۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف چلنے کی رفتار بڑھانے سے موت کا خطرہ براہ راست کم ہوجاتا ہے۔ تاہم نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ باقاعدگی سے چلنا، چاہے قدموں کی تعداد کم ہو یا زیادہ، اور ممکن ہو تو رفتار میں اضافہ کرنا صحت کے لیے فائدہ مند عادت ہو سکتی ہے۔ دل یا دیگر طبی مسائل رکھنے والے افراد کو ورزش کی شدت بڑھانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔