پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ‘نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی’ (این ڈی ایم اے) کے سربراہ، لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے بتایا ہے کہ، حالیہ مون سون سیزن میں ملک بھر میں 670 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 80 سے 90 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، مصدق ملک اور وزیر اطلاعات، عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، اس سال مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں تقریبا670 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ، 80 سے 90 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں، اگر وہ جلد بازیاب نہ ہوئے تو ان کے بھی ہلاکتوں میں شامل ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے بتایا کہ، بارشوں کا یہ سلسلہ 23 تاریخ تک جاری رہے گا اور اس دوران حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ، بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے مزید واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔
انعام حیدر کے مطابق، 23 اگست سے ماہ کے اختتام تک اور ستمبر کے ابتدائی دس دنوں میں مون سون کے مزید دو سلسلے آنے کا امکان ہے۔ ان کے بقول 10 ستمبر کے بعد حالات بتدریج بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے اور مہینے کے آخر تک معمول پر آ جائیں گے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ، حکومت ایک جامع اور مربوط نظام متعارف کرا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ، فی الحال ملک میں موسمی پیش گوئی کے مختلف چھوٹے نظام موجود ہیں۔ کہیں گلوف الارٹ سسٹم ہے، کہیں موسم کی پیش گوئی کا نظام اور کہیں سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی، یہ سب کو مربوط کیا جائے گا، تاکہ لوگوں کو بروقت اطلاع فراہم کی جا سکے۔