پاکستان: گلگت بلتستان اور پختونخواہ میں بارشوں سے مزید گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ ہے

پاکستان کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے فلیش فلڈنگ اور شہری سیلاب کے خدشے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

ادارے کے مطابق، شاہراہ قراقرم اور بابوسر ٹاپ ایک بار پھر دونوں اطراف سے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے باعث سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی سختی سے ہدایت دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ،موسمی حالات سے باخبر رہیں اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں غیر مصدقہ اور خطرناک متبادل راستوں سے بچیں۔

گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر ٹاپ میں بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 300 سے زائد سیاح پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو آپریشن کے ذریعے مرحلہ وار چلاس منتقل کر دیا گیا۔

ادھر بدھ کی صبح لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، صوبے میں 25 جولائی تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق، مون سون بارشوں کے آغاز (26 جون) سے لے کر اب تک ملک بھر میں 221 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 104 بچے اور 40 خواتین شامل ہیں، جب کہ 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دریاؤں کی صورت حال بھی تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔ تربیلا ڈیم 80 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 51 فیصد تک بھر چکا ہے، اور پانی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

دریائے سندھ، جہلم، چناب اور کابل میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے کئی مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

اسلام آباد کے راول ڈیم میں بھی پانی کی سطح 1749.40 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث بدھ کی صبح 11 بجے اس کے سپل ویز کھولے گئے۔ کورنگ نالے میں پانی کی سطح بڑھنے کی پیش گوئی کے پیش نظر قریبی آبادیوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور نالے کو عبور نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں آئندہ دنوں میں مزید بارشوں سے گلیشیئر کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood – GLOF)، شدید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں