پنجاب میں پہلی مرتبہ اقلیتی ہفتہ منایا جائے گا جو 7 اگست سے 11 اگست تک جاری رہے گا۔ اس پانچ روزہ تقریب کا مقصد پاکستان کی سماجی اور قومی ترقی میں اقلیتوں کے کردار کو سراہنا اور بین المذاہب ہم آہنگی و قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔
پنجاب کے محکمہ برائے اقلیتی امور کے مطابق، یہ ہفتہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بامعنی مکالمے اور رابطے کے ذریعے مذہبی رواداری اور قومی یگانگت کو فروغ دینے کی سنجیدہ کوشش ہے۔
یہ تقریبات آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو اجاگر کرنے کے لیے بھی منعقد کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی تقریب 7 اگست کو لاہور کے تاریخی کیتھیڈرل چرچ آف پاکستان، ریگل چوک میں منعقد ہوگی۔ اس موقع پر ایک رنگا رنگ ریلی نکالی جائے گی جو ڈبل ڈیکر بسوں پر شہر کے اہم مذہبی و ثقافتی مقامات سے گزرے گی، جن میں کرشن مندر، گردوارہ ڈیرہ صاحب، بادشاہی مسجد، اور مزارِ اقبال شامل ہیں، اور یہ قافلہ آخر میں مینارِ پاکستان پر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی دن شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
اس تقریب میں مختلف اقلیتی برادریوں کے افراد، فلاحی اداروں کے نمائندگان، طلبہ، اساتذہ، مذہبی رہنما، سول سوسائٹی کے اراکین اور غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت متوقع ہے۔
8 اگست کو اقلیتوں کے حقوق اور سماجی کردار پر ایک علمی سیشن معروف یونیورسٹی میں منعقد ہوگا، جب کہ 9 اگست کو الحمرا ہال لاہور میں بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر سیمینار ہوگا جس میں مذہبی اسکالرز، محققین، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔
10 اگست کو اسپورٹس بورڈ پنجاب کی جانب سے کھیلوں کا دن منایا جائے گا جس میں اقلیتی نوجوان مختلف روایتی اور مقابلہ جاتی کھیلوں میں حصہ لیں گے۔
اقلیتی ہفتے کا اختتام 11 اگست کو ایوانِ اقبال میں ایک اختتامی تقریب کے ساتھ ہوگا، جو قومی اقلیتوں کے دن کے موقع پر منعقد کی جائے گی۔ اس موقع پر پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا، پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے اراکین، غیر ملکی مہمان، سرکاری حکام، مذہبی رہنما، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ شرکت کریں گے۔