اے آئی میں بڑی سرمایہ کاری، میٹا کا 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت میں بڑی کمی کرتے ہوئے تقریبا دس فیصد ملازمین کو فارغ کرے گی، جو لگ بھگ آٹھ ہزار ملازمین بنتے ہیں۔

کمپنی نے اپنے ملازمین کو جاری ایک نوٹس میں بتایا کہ نہ صرف یہ کہ ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا جائے گا بلکہ کئی خالی آسامیوں کو بھی پُر نہیں کیا جائے گا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے، جس پر کمپنی رواں سال تقریبا ایک کھرب 35 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم گزشتہ تین برسوں کے مجموعی اخراجات کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ پہلے ہی عندیہ دے چکے تھے کہ میں مصنوعی ذہانت کام کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کر دے گی۔ ان کے مطابق اب ایک فرد وہ کام بھی انجام دے سکتا ہے جس کے لیے پہلے بڑی ٹیم درکار ہوتی تھی۔

میٹا اس سے پہلے بھی مختلف مراحل میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کر چکی ہے، تاہم یہ اقدام 2023 کے بعد سب سے بڑی برطرفی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی رجحان پر چل رہی ہیں۔ ایمازون نے 30 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ اوریکل نے بھی 10 ہزار سے زیادہ ملازمین کو نکالا۔ اسی طرح مائیکروسافٹ نے اپنے پرانے ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش کی ہے۔

ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی بڑھتی صلاحیتوں اور اس میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث کمپنیوں کو کم افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں