بلوغت بمقابلہ کیلنڈر: مولانا کا اعلانِ شادی

اسلام آباد کے ایوان میں گزشتہ دنوں ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ قانون ساز حضرات بالغوں کے حقوق پر بحث کر رہے تھے اور مولانا فضل الرحمان — جو بلا مبالغہ سیاست کے پرانے بالغ ہیں — اٹھے اور اعلان فرمایا کہ میں 18 سال سے کم عمر والوں کی شادیاں کراؤں گا۔

دیکھیں جی، یہ بات صرف شادی کی نہیں۔ یہ پوری تہذیب کی جنگ ہے: ایک طرف جدید ریاست ہے جو سمجھتی ہے کہ انسان 18 سے پہلے بچہ اور 18 کے بعد فوراً عقلِ کل بن جاتا ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقہ ہے جو کہتا ہے کہ بلوغت سے پہلے بچہ اور بلوغت کے بعد شریعت کے حساب سے بالغ۔ اور پھر پاکستان ہے — جو 30 سال تک والدین کے گھر رہ کر بھی نہ مکمل بالغ ہوتا ہے نہ شادی کے قابل۔

ریاست کا اصرار ہے کہ 18 سال سے پہلے شادی نہ ہو۔ گویا اس کے بعد جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، بینک اکاؤنٹس پھوٹتے ہیں، تعلیم مکمل اور روزگار مہیا ہو جاتا ہے اور نوجوانوں کے چہروں پر حکمت کی روشنی اتر آتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں 18 سال ہمارے شہری نوجوان کے لیے وہ عمر ہے جب وہ صرف یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے کہ فائنل ایئر میں انجینئرنگ چھوڑ کر یوٹیوب کیرئیر اختیار کرے یا پھر UPSC کے خواب دیکھتے ہوئے والدین کا پیسہ جلائے۔

مولانا کا موقف الگ ہے۔ ان کے مطابق شریعت بلوغت دیکھتی ہے، کیلنڈر نہیں۔ شریعت کے ہاں لڑکیوں میں 12 سے 16 کے درمیان تبدیلیاں آ جائیں تو اجازت، مگر ریاست چاہتی ہے کہ پہلے 18 ہو پھر تبدیلیاں سمجھیں۔ شریعت کہتی ہے ذمہ داری، ریاست کہتی ہے نفسیات۔ شریعت کہتی ہے گھر بسا لو، ریاست کہتی ہے ماسٹرز کر لو۔ دونوں اپنی جگہ ٹھیک اور دونوں اپنی جگہ حیران۔

اور یہاں طنز کا اصل مقام آتا ہے: پاکستان ایک ملک نہیں، ایک کولاج ہے۔ جہاں قبائلی لڑکے 15 سال میں کھیت، بندوق اور خاندان تینوں سنبھال لیتے ہیں۔ اور شہری لڑکے 24 سال میں بھی والدین کے حکم سے سونے جا رہے ہوتے ہیں۔ دیہاتوں میں 18 کے بعد لڑکی کرسی پر بٹھا دی جائے تو خاندان کو فکر ہو جاتی ہے کہ لڑکا نظر رکھو، رشتہ کہیں اور نہ چلا جائے۔ اور شہروں میں 28 تک لڑکی کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ ابھی زندگی شروع ہوئی ہے۔ ایسے ملک میں ایک ہی قانون بنانا وہی مذاق ہے جو کوچنگ سنٹر والا سوال بورڈ والے نصاب سے خارج کروا دیتا ہے۔

مولانا کے بیان کو کچھ لوگ مذہبی جذبات کا طوفان سمجھ رہے ہیں، کچھ اسے سیاست کا تڑکا اور کچھ اسے مولانا کا معروف مزاحیہ انداز۔ مولانا نے فرمایا کہ میں قانون کی خلاف ورزی کروں گا۔ ایوان نے آہستہ سے دل میں کہا: “یہ تو آپ کرتے ہی رہتے ہیں، مگر خیر۔۔۔”

اصل مسئلہ شادی کی عمر کا نہیں، سماجی عمر کا ہے۔ بلوغت جسمانی الگ چیز ہے، ذمہ داری ذہنی الگ، شادی سماجی الگ اور قانون ریاستی الگ۔ پاکستان ان چاروں چیزوں کو ایک دھاگے میں پرونے کی کوشش کر رہا ہے، مگر دھاگے کی مضبوطی questionable ہے۔

اب یہاں ایک اور دلچسپ معمہ آ کھڑا ہوتا ہے — ریاست کہتی ہے کہ شادی کے لیے 18 سال ضروری ہیں، مگر ووٹ دینے کے لیے 25 سال سے کم عمر بندہ بچہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی 18 سال کی عمر میں گھر بسا لو، مگر 24 سال کی عمر میں بھی ریاست کو یقین نہیں کہ تم بالغ سوچ رکھتے ہو۔ گویا شادی میں کم خطرہ ہے اور ووٹ میں زیادہ — حالانکہ تجربہ بتاتا ہے کہ شادی وہ کام ہے جس میں اگر غلط فیصلہ ہو جائے تو پانچ سال کے بجائے پوری زندگی دوبارہ جمع کرانی پڑتی ہے۔ ووٹ میں غلطی ہو جائے تو پانچ سال بعد نیا فارم بھرو اور آگے بڑھو۔

یہ عمر کی حدیں آخر بناتا کون ہے؟ عقل تو کہتی ہے کہ اگر 18 سال کا نوجوان اپنی زندگی کی سب سے فیصلہ کن ڈیل یعنی شادی کر سکتا ہے، تو قومی اسمبلی کا نام بھی پڑھ سکتا ہے، امیدوار کی تصویر بھی پہچان سکتا ہے اور بیلٹ پر مہر بھی لگا سکتا ہے۔ لیکن ریاست کہتی ہے: “نہیں میاں! پہلے maturity import کرو۔ کچھ سال حالات کے تھپیڑے کھاؤ، پھر آ کر سیاست سنبھالو۔” جبکہ گھر والے کہتے ہیں: “جلدی شادی کرو، ورنہ سوچ mature ہو جائے گی اور شادی مشکل ہو جائے گی۔”

کہا جاتا ہے کہ شادی کی عمر بڑھانے کے پیچھے عالمی اداروں کا developmental agenda ہے — فنڈنگ بھی وہیں سے آتی ہے اور report card بھی۔ جبکہ ووٹر کی عمر کے پیچھے ملکی سیاسی calculus موجود ہے — نوجوان جذباتی ہوتے ہیں، جذباتی انسان ووٹ دیتے ہوئے سوال زیادہ، اور جلسوں میں نعرے کم غلط لگاتے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ پہلے ان کو ‘وقارِ سیاست’ کے لیے تھوڑا پکا کیا جائے۔

ہر کام کے پیچھے ایجنڈا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ آج کل اگر کوئی کام بغیر ایجنڈے کے ہو جائے تو گمان ہوتا ہے کہ یا تو کام بہت چھوٹا ہے یا ایجنڈا بہت خفیہ۔ شادی کی عمر کا ایجنڈا عالمی سماجیات کا، ووٹر عمر کا ایجنڈا ملکی سیاست کا، اور رشتے والی آنٹی کا اپنا معاشی ایجنڈا—تینوں کی طاقت کم نہ سمجھیں۔

آخر میں سوال یہی بچتا ہے کہ اس ملک میں شادی کے لیے 18 سال کم ہیں یا زیادہ؟ یہ سوال اس قوم سے نہ پوچھا جائے جس کے نوجوان 30 سال کے بعد بھی رشتے والی آنٹی کے ساتھ جنگی مذاکرات کر رہے ہوتے ہیں اور والدین سوچتے ہیں کہ جس عمر میں وہ خود تین بچوں کے والد تھے، ان کا بچہ ابھی career options explore کر رہا ہے۔

ریاست اور مولانا دونوں ٹھیک بھی ہیں اور غلط بھی۔ ریاست ذمہ داری دیکھتی ہے، مولانا بلوغت۔ سماج دونوں کو دیکھ کر اپنی جیب کا حساب لگاتا ہے۔ اور نوجوان — وہ بیچارہ ابھی تک confused ہے کہ شادی کرنی بھی ہے یا پہلے پیسہ کمانا ہے۔ کیونکہ اسے نہ ریاست بلوغت سے بالغ مانتی ہے، نہ سیاست کیلنڈر سے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں