پاکستان کی نوبیل امن انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں خیبر پختونخواہ کے شہر سوات کے علاقے کبل میں خودکش دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘سوات، جو میرا آبائی علاقہ ہے، وہاں ہونے والے خودکش حملے پر میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اس حملے میں درجن سے زائد پولیس اہلکار اور شہری جاں بحق ہوئے۔ میں متاثرہ خاندانوں کے درد کا تصور بھی نہیں کر سکتی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتی ہوں’۔
ملالہ یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘یہ حملہ اس وقت ہوا جب شہری عسکریت پسندی اور دہشت گردی میں اضافے کے خلاف احتجاج کے لیے جمع تھے۔ دہشت گرد حملوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا، میں اضافے کے پیش نظر میں حکومت اور سکیورٹی حکام سے اپیل کرتی ہوں کہ عوام کے تحفظ اور سلامتی کو اولین ترجیح دیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘وادیٔ سوات کی لڑکیاں کئی برسوں سے معمول کی زندگی اور امن کی خواہش رکھتی آئی ہیں، اور میں دعا کرتی ہوں کہ سوات کے عوام کو دوبارہ کبھی طالبان کے زیرِ اثر زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے’۔
یاد رہے، اتوار کے روز سوات کے عوام کی جانب سے ‘امن مارچ’ کا انعقاد کیا گیا تھا جس دوران ایک خودکش دھماکہ ہوا۔ کے پی پولیس کے مطابق یہ دھماکا تھانے کے داخلی دروازے کے قریب پر ہوا۔
حکام کے مطابق 5 پولیس اہلکاروں سمیت کئی شہری جاں بحق ہوئے۔
کالعدم تنظیم پاکستان تحریک طالبان نے حملے کی زمہ داری قبول کی ہے۔