دو مرتبہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی شہرت یافتہ بائیتھلون چیمپئن لارا ڈال مائر کو پاکستان میں لیلا پیک پر ایک حادثے کے بعد شدید زخمی حالت میں ریسکیو کرنے کے لیے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے بدھ کے روز زمینی امدادی مہم کا آغاز کیا۔
حادثہ پیر کے روز دن کے وقت تقریبا5,700 میٹر (18,700 فٹ) کی بلندی پر کراکرم رینج کی خوبصورت مگر خطرناک چوٹی لائلا پیک پر پیش آیا، جس کی تصدیق ڈال مائر کی ٹیم نے اُن کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں کی۔
بیان کے مطابق، وہ چٹانیں گرنے کے باعث زخمی ہوئیں۔ ان کے ساتھی نے محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد ریسکیو کی اطلاع دی۔
الجزیرہ کے مطابق،گانچھے ضلع کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر، اریب احمد مختار نے بتایا کہ ،ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو ممکن نہیں ہے کیونکہ حادثہ جس بلندی پر پیش آیا ہے، وہاں کے حالات انتہائی مشکل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ، غیر ملکی کوہ پیماؤں پر مشتمل ایک زمینی ریسکیو ٹیم بدھ کو روانہ ہو چکی ہے، جس میں تین امریکی اور ایک جرمن کوہ پیما شامل ہیں۔ یہ مہم پاکستانی ٹریکنگ کمپنی Shipton Trek & Tours Pakistan کے تعاون سے شروع کی گئی۔

ڈال مائر کی ٹیم نے بتایا ہے کہ، اب تک کوئی بھی شخص جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ وہاں مزید چٹانیں گرنے کا خطرہ موجود ہے اور یہ علاقہ انتہائی دور افتادہ ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر نے جائے حادثہ پر پرواز کی، جہاں سے دیکھا گیا کہ، تجربہ کار کوہ پیما شدید زخمی نظر آ رہی ہیں، تاہم کوئی signs of life (زندگی کے آثار) دکھائی نہیں دیے۔
مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر محمد علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ، اس علاقے میں پچھلے ایک ہفتے سے شدید بارش، تیز ہوائیں اور گھنے بادلوں کے باعث موسم نہایت خراب رہا ہے، جس نے ریسکیو کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
لارا ڈال مائر جون کے آخر سے اس علاقے میں موجود تھیں اور اس سے قبل وہ عظیم ٹرینگو ٹاور سر کر چکی تھیں۔ وہ ایک تجربہ کار کوہ پیما، لائسنس یافتہ ماؤنٹین اور اسکی گائیڈ، اور ایک فعال ریسکیو رضاکار بھی ہیں۔
بین الاقوامی بائیتھلون یونین (IBU) نے اپنے بیان میں کہاکہ،ہم ڈال مائر اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور دعا گو ہیں کہ جلد کوئی اچھی خبر ملے۔
لارا ڈال مائر نے 2018 کے سرمائی اولمپکس (پیونگ چانگ، جنوبی کوریا) میں خواتین کے اسپرنٹ اور پرسیوٹ دونوں مقابلے جیت کر تاریخ رقم کی، اور مجموعی طور پر سات عالمی چیمپئن شپ گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔ وہ 2019 میں صرف 25 سال کی عمر میں پروفیشنل کھیل سے ریٹائر ہو گئیں، جس کے بعد وہ جرمن نشریاتی ادارے ZDF کے لیے بائیتھلون کی ماہر تجزیہ نگار بن گئیں اور کوہ پیمائی کو اپنایا۔