قازقستان نے 70 سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی بار جنگل میں ایک مادہ ٹائیگر چھوڑ دیا ہے، جس کے ساتھ دریائے ایلی کے ڈیلٹا میں اس شکاری جانور کی آبادی بحال کرنے کے منصوبے کا عملی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق، قازقستان کی وزارت ماحولیات نے کہا ہے کہ مادہ آمور ٹائیگر ’امیت‘ کو 31 جولائی کو “ایلی بلخاش سرکاری قدرتی ذخیرے” میں آزاد کیا گیا، جبکہ اس اقدام کا باضابطہ اعلان 3 اگست کو کیا گیا۔
وزیر ماحولیات یرلان نیسان بایوف نے اسے تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قازقستان، روسی ماہرین، سائنس دانوں اور بین الاقوامی تحفظِ جنگلی حیات کے اداروں کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگل میں چھوڑنے سے قبل ‘امیت’ کے طبی معائنے کیے گئے اور اس کی صحت، شکار کرنے کی صلاحیت، رویے اور انسانوں کے سامنے ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے مادہ ٹائیگر کو جی پی ایس اور جی ایس ایم سیٹلائٹ کالر پہنایا ہے۔ قدرتی ذخیرے کا عملہ سیٹلائٹ ڈیٹا اور کیمرا ٹریپس کے ذریعے 24 گھنٹے اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہا ہے۔
’آمور‘ نامی بالغ نر ٹائیگر ابھی نگرانی میں ہے اور اسے آزاد کرنے سے قبل مزید رویوں سے متعلق جائزے مکمل کرنا ہوں گے۔ دو بچوں ’توران‘ اور ’اوسوری‘ کو کم از کم 18 ماہ کی عمر تک تیار کردہ باڑوں میں رکھا جائے گا۔ حکام ہر جانور کا الگ الگ جائزہ لیں گے۔
جنگل سے پکڑے گئے چار ٹائیگر رواں سال مئی میں روس کے علاقے خاباروفسک سے قازقستان پہنچے تھے۔ یہ ٹائیگر ’بوگدانا‘ اور ’کوما‘ نامی دو آمور ٹائیگر کے ساتھ شامل ہوئے، جنہیں افزائشِ نسل کے لیے ستمبر 2024 میں نیدرلینڈز سے منتقل کیا گیا تھا۔ نیدرلینڈز سے لایا گیا جوڑا باڑے میں ہی رہے گا، جبکہ ان کی موزوں اولاد کو مستقبل میں جنگل میں چھوڑنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
قازقستان سے ٹائیگر کیوں ختم ہوئے؟
ماضی میں ٹائیگر ‘دریائے ایلی’ اور ‘سیر دریا’ کے کنارے سرکنڈوں اور سیلابی جنگلات میں پائے جاتے تھے۔ شکار، قدرتی ماحول کی تباہی اور جنگلی شکار کی آبادی میں کمی کے باعث توران یا کیسپین ٹائیگر قازقستان سے ختم ہو گئے۔ ملک میں آخری ٹائیگر 1948 میں مارا گیا تھا۔
قازقستان آمور ٹائیگر کو اس لیے استعمال کر رہا ہے کیونکہ جینیاتی تحقیق میں روس کے مشرق بعید میں موجود آمور ٹائیگر اور معدوم کیسپین ٹائیگر کے درمیان انتہائی قریبی تعلق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق دونوں اقسام کے بنیادی مائٹوکانڈریل ڈی این اے میں صرف ایک نیوکلیوٹائڈ کا فرق تھا۔
قازقستان نے 2010 میں ٹائیگرز کی بحالی کا منصوبہ پیش کیا تھا اور 2018 میں ایلی بلخاش قدرتی ذخیرہ قائم کیا گیا۔ یہ محفوظ علاقہ دریائے ایلی کے ڈیلٹا اور جھیل بلخاش کے جنوبی کنارے پر پھیلا ہوا ہے، جو ماضی میں توران ٹائیگر کے اہم مسکن میں شامل تھا۔ تیاریوں کے دوران سیلابی علاقوں کے قدرتی ماحول کو بحال کیا گیا اور ٹائیگر کے لیے شکار کی دستیابی بڑھائی گئی۔
حکام نے 2018 سے 2024 کے درمیان 205 بخارا ہرن ذخیرے میں چھوڑے اور 100 سے زیادہ کولان بھی منتقل کیے۔ اس کے علاوہ رو ہرن اور جنگلی سوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
جولائی میں قازق اور روسی ماہرین نے تیاریوں کا جائزہ لے کر تکنیکی سفارشات پیش کیں۔
این بی ایس اے پی ایکسیلیریٹر پارٹنرشپ کے مطابق کامیابی کا معیار صرف جانوروں کو آزاد کرنا نہیں بلکہ ایک محفوظ اور خود کفیل ٹائیگر آبادی قائم کرنا ہوگا۔
منصوبے میں قریبی آبادیوں اور ٹائیگرز کے درمیان ممکنہ تصادم کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ اگر نگرانی میں موجود کوئی ٹائیگر کسی گھر یا آبادی کے پانچ کلومیٹر کے اندر آئے گا تو مقامی رہائشیوں کو انفرادی الرٹ جاری کیا جائے گا۔ قدرتی ذخیرے نے ضرورت پڑنے پر ٹائیگر کو دور بھگانے، بے ہوش کرنے یا پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی قائم کی ہیں۔
مئی 2025 سے عوامی ہاٹ لائن بھی کام کر رہی ہے۔ اگر کوئی ٹائیگر مویشی مار دے تو مالک کو معاوضہ دینے کے لیے ایک متبادل مویشیوں کا ریوڑ بھی قائم کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ٹائیگر کو آبادیوں کے ساتھ اپنا خوراک جوڑنے سے روکنا اور قریبی دیہات میں اس منصوبے کی حمایت برقرار رکھنا ہے۔
وزارت ماحولیات کے مطابق طویل مدتی ہدف دریائے ایلی کے ڈیلٹا اور جنوبی بلخاش کے علاقے میں ٹائیگرز کی مستحکم آبادی قائم کرنا ہے۔ امیت کی نقل و حرکت، شکار کرنے کی صلاحیت اور آبادیوں سے دور رہنے کے رویے کی بنیاد پر باقی ٹائیگرز کو آزاد کرنے کے فیصلے کیے جائیں گے۔