پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر،کراچی کے علاقے بغدادی لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ، ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر میں زیر علاج تین زخمیوں میں سے دو کی حالت بہتر ہے اور انہیں جلد اسپتال سے فارغ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایک زخمی تاحال زیر علاج ہے۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق، اب تک 19 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔ واقعے سے متعلق بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ، عمارت گرنے سے قبل زور دار جھٹکا محسوس ہوا تھا جس کے باعث وہ فوری طور پر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس افسوسناک واقعے پر صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ، کراچی میں اس نوعیت کی کئی مخدوش عمارتیں موجود ہیں، جن کے مکینوں کو نوٹسز بھی دیے جا چکے ہیں، تاہم وہ ان عمارتوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ، عوامی مجبوریوں کے باوجود قانون پر عمل درآمد کروانا ناگزیر ہے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ، کچھ بلڈرز تعمیراتی ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ایسے افراد کو بلیک لسٹ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ، گھروں کی خریداری کرتے وقت ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔