سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے واحد پوتے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر نے سیاست میں حصہ لینے کی خبر کو کنفرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی جماعت بھٹو شہید گروپ سے سیاست کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جماعت کی بنیاد میرے بابا نے رکھی تھی، وہ ابھی تک موجود ہے اور ہم اس کی قیادت کریں گے، مجھے اپنے ملک سے اور لوگوں سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو جونئیر نے اپنا پہلا سیاسی موقف سندھ میں متنازع نہروں کے معاملے پر اپنایا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے اس ایشو پر سندھ میں احتجاج چل رہا ہے۔
بھٹو جونیئر کے مطابق سندھ میں متنازع نہروں کا معاملہ وہاں کے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، سندھ میں پانی نہیں ہوگا تو انسان اور جنگی آبی حیات زندہ نہیں رہ سکیں گی۔ ذوالفقار جونیئر نے اس صورتحال کو ثقافتی نسل کشی سے بھی تعبیر کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کی والدہ غنویٰ بھٹو شہید بھٹو گروپ کی سربراہ ہیں اور وہ لاڑکانہ سے دو تین بار صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکی ہیں۔ یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا تاثر پہلے ایک من موجی آرٹسٹ اور درویش طبع کا رہا ہے جسے سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں اور وہ صوفی میوزک، کلچرل ایکٹیویٹیز اور امن کی جدوجہد کی طرف رجحان رکھتا ہے۔ اب ان کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایکٹو سیاست کریں گے اور ممکن ہے احتجاجی جلسوں کی قیادت بھی کریں۔