حکومت نے مالی سال 2025-26 کا اقتصادی سروے جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کی معیشت 3.7 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے تاہم حکومت کے 4.2 فیصد کے ہدف سے کم رہی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال کے دوران معیشت کو تجارتی غیر یقینی صورتحال، سیلاب اور خطے میں کشیدگی جیسے بیرونی عوامل کا سامنا رہا، تاہم مجموعی طور پر معیشت استحکام کی طرف بڑھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت بھی عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بجٹ اہداف پر بات چیت کر رہی ہے اور مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
معیشت کا حجم اور آمدن میں اضافہ
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 126.9 کھرب روپے (452.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ فی کس آمدن بھی بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔
شعبہ وار کارکردگی
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ صنعت میں 3.5 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ خدمات کا شعبہ، جو جی ڈی پی کا تقریباً 58 فیصد ہے، معیشت کی بڑی طاقت کے طور پر برقرار رہا۔
بڑی صنعت (LSM) میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرح ہے۔ حکومت کے مطابق 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں میں بہتری دیکھی گئی، جن میں خوراک، ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتیں شامل ہیں۔
مالیاتی صورتحال بہتر
اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ کم ہو کر 0.7 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ بنیادی سرپلس 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت نے اسے مالی نظم و ضبط کی بہتری قرار دیا ہے۔
اسی دوران ٹیکس آمدن میں 11.3 فیصد اضافہ ہو کر 10,166 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ غیر ٹیکس آمدن بھی بڑھ کر 4,632 ارب روپے ہو گئی۔
بیرونی شعبہ اور ترسیلات زر
ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تاہم برآمدات میں مجموعی کمی دیکھی گئی، خاص طور پر چاول اور چینی کی برآمدات میں کمی کے باعث خوراک کے شعبے کی برآمدات میں 1.5 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل اور اسپورٹس گڈز کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح فری لانسنگ آمدن بھی 642 ملین ڈالر سے بڑھ کر 959 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔
زرمبادلہ اور سرمایہ کاری
رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور حکومت امید ظاہر کر رہی ہے کہ یہ 18 ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گے۔
سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب 14.38 فیصد جبکہ قومی بچت 14.13 فیصد رہی۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
مہنگائی اور عالمی اثرات
جولائی تا مئی اوسط مہنگائی 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم اپریل 2026 میں مہنگائی میں اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث 10.9 فیصد تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت سست روی کا شکار ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی توانائی اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔
قرض اور مالی استحکام
اقتصادی سروے کے مطابق قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 68.5 فیصد تک آ گیا ہے، جسے حکومت نے بہتری کی علامت قرار دیا ہے۔
توانائی بحران اور حکومتی اقدامات
وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث تیل کی درآمدات میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، تاہم حکومت نے سپلائی مینجمنٹ کے ذریعے دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
آئندہ بجٹ اور اہداف
قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف مقرر کیا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3.669 کھرب روپے کا بجٹ منظور کیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگرچہ معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، تاہم مہنگائی، تجارتی خسارہ اور بیرونی دباؤ اب بھی اہم چیلنجز کے طور پر موجود ہیں۔