پاکستان کا 18 ہزار 800 ارب روپے کا بجٹ پیش، دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے سب سے زیادہ اخراجات مقرر

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 800 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس میں اقتصادی ترقی کی شرح چار فیصد اور مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کے لیے 8 ہزار 45 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک ہزار 169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال میں ٹیکس آمدن کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت کو غیر ٹیکس آمدن کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے، جبکہ بنیادی سرپلس دو فیصد رہنے کی توقع ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو شامل کیا جائے تو یہ رقم ایک ہزار 451 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو جزوی ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ مختلف آمدنی کے درجوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تنخواہ دار ملازمین پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مخصوص کاروباری شعبوں کے لیے سپر ٹیکس میں بھی کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کی معیشت میں گزشتہ دو برس کے دوران استحکام آیا ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد، بڑی صنعتوں کی شرح نمو 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ترسیلاتِ زر مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔

بجٹ اجلاس کے دوران حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے سندھ کو پانی کا مناسب حصہ نہ ملنے کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ صوبے کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں