بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں امتحانی اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کا احتجاج، پولیس کا طلبہ پر آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اصلاحات کے مطالبات پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔ ہزاروں طلبہ، ملازمت کے امیدوار اور رضاکار رانچی میں ریاستی اسمبلی کی عمارت کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بی بی سی کے مطابق احتجاج کے دوران بعض افراد زخمی ہوئے، تاہم زخمیوں کی سرکاری تعداد واضح نہیں ہو سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مظاہرین پُرامن تھے، لیکن ایک چھوٹے گروہ نے رکاوٹیں توڑنے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کی کوشش کی۔ حکام کے مطابق تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

رانچی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پارس رانا نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ تقریباً 90 فیصد طلبہ پُرامن تھے اور پولیس نے مظاہرین کے طالب علم ہونے کی وجہ سے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق ہجوم کو قابو کرنے کے لیے محدود وقت کے لیے کم سے کم طاقت استعمال کی گئی۔

جھارکھنڈ میں مظاہرین 25 جولائی سے سرکاری امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ بہت سے مظاہرین رانچی کے ایک سٹیڈیم میں جمع ہیں، جہاں بعض افراد کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں جبکہ کچھ بھوک ہڑتال بھی کر چکے ہیں۔

احتجاج کی فوری وجہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے اپریل میں ہونے والے ابتدائی سول سروسز امتحان کے نتائج ہیں۔ جولائی میں نتائج کے اعلان کے بعد امیدواروں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مبینہ لیک شدہ جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض کامیاب امیدواروں نے توقع سے کم سوالات کے جواب دیے تھے، جس کے بعد نتائج میں رد و بدل کے شبہات پیدا ہوئے۔

ریاستی حکومت نے امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات جھارکھنڈ کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر رکھی ہیں۔ ایک درجن سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ تفتیش کار ایک نجی کمپنی کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو امتحانی عمل کے بعض حصوں میں شامل تھی۔

حکومت نے اتوار کو مظاہرین سے مذاکرات کے بعد متنازع امتحان سمیت مزید دو امتحانات منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔ اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے تین ارکان نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ کمیشن کے سابق چیئرمین ایل خیانگتے، جو 22 جولائی کو مستعفی ہوئے تھے، تحقیقات کے بعد گرفتار کر لیے گئے۔

اس کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے۔ ان کا اہم مطالبہ یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی سے کرائی جائیں۔ جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاستی حکومت کی اتحادی کانگریس دونوں نے طلبہ کے کئی مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں