کانگو میں ایبولا وائرس سے 2 ہزار افراد ہلاک، وبا ریکارڈ رفتار سے پھیل رہی ہے، حکام

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ سب سے تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا بن چکی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 4 ہزار 381 مصدقہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مزید 704 مریض ہسپتالوں میں داخل یا آئسولیشن میں ہیں۔

وبا کا اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ پہلے ایک ہزار اموات تقریباً نو ہفتوں میں ہوئیں، جبکہ اگلی ایک ہزار اموات صرف تقریباً تین ہفتوں میں ریکارڈ کی گئیں، جو وبا کی تیز رفتار شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ تاریخ کی دوسری سب سے بڑی ایبولا وبا بن چکی ہے۔ اس سے بڑی وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقا میں پھیلی تھی، جس میں 28 ہزار سے زائد کیسز اور 11 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔

امدادی کارکنوں کے مطابق پانچ متاثرہ صوبوں میں طبی ردعمل کو وسعت دی جا رہی ہے، تاہم بیماری اب بھی اقدامات سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

متعدد ہیلتھ ورکرز تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال پر ہیں، جبکہ نئے کیسز کی بڑی تعداد ان افراد میں سامنے آ رہی ہے جو پہلے سے نگرانی میں موجود مریضوں کے رابطوں میں شامل نہیں تھے۔

موجودہ وبا بندیبگیو قسم کے ایبولا وائرس کی وجہ سے پھیلی ہے، جس کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔ متاثرہ صوبہ اِتوری میں ویکسین اور علاج کے کلینیکل ٹرائلز شروع کر دیے گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وبا ممکنہ طور پر حکام کی جانب سے شناخت کیے جانے سے کئی ماہ پہلے فروری میں شروع ہو چکی تھی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ابتدائی طور پر بعض مریضوں کو ملیریا اور ٹائیفائڈ کا مریض سمجھا گیا، جبکہ ٹیسٹنگ بھی ایبولا کی زیادہ عام قسم کے لیے کی گئی تھی۔

موجودہ وبا کانگو میں ایبولا کی 17ویں اور ملک کی اب تک کی سب سے بڑی وبا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں