اسلام آباد کے علاقے ترنول میں جاپان کے مالی تعاون سے تعمیر کیے گئے ٹائن گرلز ماڈل پرائمری سکول کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور سکول کو علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ منصوبے کا مقصد طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور مقامی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
جاپانی حکومت نے اس منصوبے کے لیے 44 ہزار 25 امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی۔ یہ رقم جاپان کے گرانٹ اسسٹنس فار گراس روٹس ہیومن سکیورٹی پراجیکٹس پروگرام کے تحت دی گئی، جس کا مقصد مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والے ترقیاتی منصوبوں کی مدد کرنا ہے۔ سکول کی تعمیر ایک غیر سرکاری تنظیم سی ایس پی نے مکمل کی۔ افتتاحی تقریب میں جاپانی سفارت خانے کے حکام، تنظیم کے نمائندوں، اساتذہ، طالبات، والدین اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔
نئے تعمیر ہونے والے سکول میں آٹھ کلاس رومز، پرنسپل کا دفتر، واش رومز، ہموار کھیل کا میدان اور طالبات کے لیے 250 کرسیاں فراہم کی گئی ہیں۔ سکول کی عمارت میں بنیادی تعلیمی سہولیات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ منصوبے کے تحت کھیل کود اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے۔
غیر سرکاری تنظیم سی ایس پی نے جاپانی امداد کے علاوہ اپنے وسائل سے سکول میں مزید سہولیات بھی فراہم کی ہیں۔ ان میں شمسی توانائی کا نظام، پانی ذخیرہ کرنے کے لیے زیرِ زمین ٹینک، بجلی سے چلنے والا واٹر کولر اور ڈیجیٹل تعلیم کے لیے انٹرایکٹو سمارٹ بورڈ شامل ہیں۔ ان سہولیات کا مقصد طالبات اور اساتذہ کو روزمرہ تعلیمی سرگرمیوں میں آسانی فراہم کرنا اور جدید تدریسی طریقوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاپانی سفیر اکاماتسو شوئیچی نے مشکل موسمی حالات کے باوجود سکول کی تعمیر مکمل کرنے پر سی ایس پی کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ انسانی تحفظ اور خوش حال معاشرے کی تشکیل کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مستقبل کے لیے لڑکیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جاپان کے ترقیاتی تعاون میں تعلیم کا شعبہ ایک اہم ترجیح ہے۔