ایک وسیع سائنسی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ درمیانی عمر میں روزانہ کافی پینے کی عادت بڑھاپے میں صحت مند زندگی گزارنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق میں تقریباً 50 ہزار خواتین کو 30 سال تک شامل رکھا گیا۔
امریکی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے درمیانی عمر میں کیفین کے استعمال اور بڑھاپے میں صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق نرسز ہیلتھ اسٹڈی (NHS) کا حصہ تھی، جس میں 1984ء سے 47,513 خواتین کی صحت، طرزِ زندگی اور غذائی عادات سے متعلق تفصیلات کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق اگرچہ یہ نتائج ابتدائی ہیں، مگر یہ اشارہ ضرور دیتے ہیں کہ چھوٹی مگر مستقل مثبت عادتیں طویل مدتی صحت پر خوشگوار اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر کافی کا معتدل استعمال متوازن غذا، ورزش اور تمباکو سے پرہیز جیسی صحتمند عادات کے ساتھ اپنایا جائے، تو یہ ایک محفوظ حفاظتی تدبیر بن سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگرچہ کافی کے فوائد واضح ہیں، لیکن ان کا اثر نسبتاً محدود ہے اور طرزِ زندگی کی مجموعی تبدیلیاں زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں۔تحقیق میں "صحت مند بڑھاپے” کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد 70 سال یا اس سے زائد عمر تک پہنچ جائے اور اسے کسی بڑے دائمی مرض کا سامنا نہ ہو، ذہنی یا جسمانی صلاحیت میں کمی نہ آئے، اور یادداشت کی خرابی بھی نہ ہو، تو اسے "صحت مند عمر رسیدہ” شمار کیا جاتا ہے۔
سنہ 2016ء میں تحقیق میں شامل 3706 خواتین ایسی تھیں جنہوں نے مذکورہ معیار پر پورا اترتے ہوئے "صحت مند بزرگ” کی درجہ بندی حاصل کی۔ ان خواتین کی عمریں 45 سے 60 برس کے درمیان تھیں اور وہ روزانہ اوسطاً 315 ملی گرام کیفین (تقریباً تین چھوٹے کپ کافی) پیتی تھیں۔ ان کے کیفین کے استعمال کا 80 فیصد حصہ صرف کافی سے حاصل ہوتا تھا۔