پاکستان نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان پر شدید احتجاج کیا ہے، جس میں انہوں نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو ’بھارت کا اہم حصہ‘ قرار دیا تھا۔
سرجیو گور نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر کے دورے کے دوران یہ بیان دیا۔
اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ پاکستان نے امریکی سفیر کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی حل کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق طے ہونا باقی ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان مسئلہ کشمیر پر واشنگٹن کے دیرینہ موقف کی نفی کرتا ہے اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر اپنی سرکاری زبان اور پالیسی میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔
امریکا تاریخی طور پر جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیتا رہا ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل ہونا چاہیے۔
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ جوہر سلیم نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ ایک سفیر کے غیر رسمی بیان کو امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق کسی اہم پالیسی تبدیلی کی صورت میں اس کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ یا وائٹ ہاؤس کے باضابطہ بیانات میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے امریکی سفیر کے بیان کو سفارتی لغزش قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ واشنگٹن کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔
سابق پاکستانی سفیر اعزاز چودھری نے بھی کہا کہ سرجیو گور کے ریمارکس ممکنہ طور پر ان کی ذاتی رائے ہو سکتے ہیں اور پاکستان کا احتجاج امریکی نمائندے کو واشنگٹن کے سرکاری موقف کی یاددہانی ہے۔
خارجہ امور پر نظر رکھنے والے پاکستانی صحافی کامران یوسف نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ‘پاکستان کی جانب سے امریکی ناظم الامور کو طلب کرنا اس لیے اہم ہے کیونکہ واشنگٹن کے کسی بیان پر پاکستان کی جانب سے کسی سینئر امریکی سفارت کار کو باضابطہ طور پر طلب کرنا نسبتاً کم دیکھنے میں آتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد مسئلہ کشمیر پر امریکی مؤقف میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں’۔
پاکستانی تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے بھی ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘سرجیو گور کو شاید تاریخ کا سبق پڑھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انہوں نے غلط اور بظاہر لاعلمی پر مبنی بیان دیتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ کشمیر کو ’’بھارت کا حصہ‘‘ قرار دیا’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘امید ہے کہ ان کے سربراہ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اپنے سفیر کی اصلاح کریں گے، جبکہ پاکستان کا دفتر خارجہ بھی اس معاملے میں درست مؤقف واضح کرے گا’۔