خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد مارے جانے کا دعویٰ

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 د-ہشت گرد مارے گئے ہیں۔

پاکستانی سرکاری میڈیا کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران پانچ د-ہشت گرد مارے گئے۔

ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی کے دوران د-ہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق خیبر پختونخوا میں ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کالعدم تحریک طا-لبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ ریاست کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے گورندر اور ماشکیل کے علاقوں میں کارروائی کے دوران چھ د-ہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی ٹی وی نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ماشکیل میں مسلح افراد نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کو مار دیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق بلوچستان میں یہ کارروائیاں ’آپریشن ردالفتنہ 3‘ کے تحت کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی ریاست بلوچستان میں سرگرم بعض کالعدم گروہوں کے لیے ’فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے اور ان کے حوالے سے انڈیا پر معاونت کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’عزمِ استحکام‘ کے تحت ملک سے د-ہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران د-ہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں اگست کے دوران د-ہشت گردی کے 54 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔

اس سے قبل 30 ستمبر کو شمالی وزیرستان کے میر علی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تین د-ہشت گرد مارے جانے کی اطلاع دی گئی تھی، جبکہ اس سے ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں پانچ د-ہشت گرد مارے گئے تھے۔

ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں متعدد بڑے حملے بھی ہوئے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جان سے گئے اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعد میں کلیئرنس آپریشن کے دوران آٹھ د-ہشت گرد مارے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں