ایران پر امریکی حملہ ، ایٹمی پروگرام کتنے سال پیچھے چلا گیا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور کشیدگی کا نیا باب کھل چکا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے مطابق حالیہ امریکی حملے نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے , اتنا کہ ان تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کے مطابق، نطنز، فردو اور اصفہان میں قائم تین بڑے ایٹمی مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ان کے بقول، حملے میں استعمال ہونے والا انٹیلی جنس “انتہائی قابلِ اعتماد” ذرائع سے حاصل کیا گیا۔

ایک دن پہلے، پینٹاگون کی ایک لیک شدہ ابتدائی رپورٹ نے ایک مختلف کہانی بیان کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے مرکزی ایٹمی ڈھانچے کو شدید نقصان تو ضرور پہنچا، لیکن پروگرام کے کور کمپوننٹس محفوظ رہے ہیں۔ یعنی ایران تکنیکی طور پر دوبارہ اپنی ایٹمی سرگرمیاں شروع کر سکتا ہے۔

اسی رپورٹ نے صدر ٹرمپ کو شدید غصے میں ڈال دیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر جعلی میڈیا پر طنز کیا اور کہا کہ حملے نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو “مکمل طور پر تباہ کر دیا” ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج اور پینٹاگون کے حکام ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کریں گے تاکہ امریکی پائلٹس کی عظمت کا دفاع کیا جا سکے۔

ادھر سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں نطنز اور فردو کے اطراف میں چھ بڑے گڑھے نظر آ رہے ہیں۔ مگر یہ واضح نہیں کہ زمین کے نیچے موجود ایٹمی تنصیبات کس حد تک متاثر ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں