ہم ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، ہمارا تاریخی اورثقافتی رشتہ ہے، وزیراعظم پاکستان

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف ترکیہ کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ اس اہم دورے میں ان کے ہمراہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔

تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی، پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے بیان کے مطابق، مہرآباد ایئرپورٹ پر ایرانی فوج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو باقاعدہ سلامی پیش کی۔

سعدآباد پیلس تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر اور پانی جیسے تنازعات سمیت تمام امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسائے کے ساتھ تجارت اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنا جارحانہ طرز عمل برقرار رکھا تو پاکستان اپنے مادرِ وطن کے دفاع میں کسی بھی حد تک جائے گا، جیسا کہ حالیہ دنوں میں اللہ کے فضل سے کیا جا چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کی امن کی پیشکش کو قبول کرتا ہے تو پاکستان سنجیدگی اور خلوصِ نیت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے آگے بڑھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے چند ہفتے قبل فون کر کے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور پاکستانی عوام کے لیے اپنے برادرانہ جذبات بیان کیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ایران نے جس نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے، اور اس بحران کو بڑھنے سے پہلے ختم کرنے کی خواہش کا اظہار ایک مثبت قدم تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، اللہ کے کرم، اپنی افواج کی بہادری اور عوام کی بے مثال حمایت کی بدولت حالیہ بحران سے کامیابی کے ساتھ نکلا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، ہمیشہ امن چاہا ہے، اور مذاکرات کے ذریعے اس کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف جب تہران میں سعد آباد محل پہنچے تو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

وزیراعظم نے ایران سے اپنے گہرے تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ،ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ ہونے والی تعمیری اور مفید بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے تمام پہلوؤں پر بات ہوئی، اور دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، کامرس اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتے موجود ہیں اور اب ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک وہاں 50 ہزار سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

پریس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے صدیوں پر محیط تاریخی اور ثقافتی تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں سیاست، معیشت اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ایرانی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدوں پر کسی بھی قسم کی دہشتگردانہ یا مجرمانہ سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس حوالے سے سرحدی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں