اسرائیل میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جس کے تحت 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث فلسطینیوں کے لیے سزائے موت اور عوامی ٹرائلز کی راہ ہموار کی جائے گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ انصاف یاریو لیون نے یہ بل پیش کیا ہے، جس پر آج اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں ووٹنگ متوقع ہے۔
یاریو لیون نے کہا کہ چونکہ سزائے موت دینے کا مکمل اختیار موجود ہے، اس لیے اگر یہ سزا سنائی گئی تو اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت “سینکڑوں” فلسطینی ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس بل کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث فلسطینیوں کے خلاف ایک خصوصی قانونی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ان پر دہشت گردی، قتل، جنسی تشدد اور نسل کشی جیسے الزامات عائد کیے جا سکیں گے۔
کنیسٹ کی آئینی کمیٹی کے چیئرمین سمچھا روتھمین نے کہا کہ یہ قانون “اسرائیل کے دشمنوں کو واضح پیغام” دے گا کہ اسرائیل نہ خاموش رہے گا، نہ بھولے گا اور نہ معاف کرے گا، بلکہ قانون کے تحت سخت ترین سزائیں دے گا، جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمات ایک خصوصی فوجی عدالت میں چلائے جائیں گے، جسے شواہد اور گواہیوں سے متعلق بعض معمول کے قانونی ضوابط میں تبدیلی کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ ٹرائلز یروشلم میں ہوں گے اور ان کی اہم کارروائیوں، جن میں ابتدائی سماعت، فیصلہ اور سزا سنانے کے مراحل شامل ہیں، کو فلمایا اور ایک مخصوص ویب سائٹ پر نشر کیا جائے گا۔
اسرائیلی پارلیمان مارچ میں فلسطینی ملزمان کے لیے “دہشت گردی” کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق قانون منظور کر چکی ہے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قانون کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں ہو سکتا، اسی لیے 7 اکتوبر حملوں کے لیے الگ بل پیش کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اپنی تاریخ میں صرف دو مرتبہ سزائے موت پر عملدرآمد کیا ہے، جن میں آخری مرتبہ 1962 میں پھانسی دی گئی تھی۔