گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد خان نے کہا ہے کہ، ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح گزشتہ 60 برسوں، یعنی چھ دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ، معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نمایاں اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ، ترسیلات زر میں تاریخی اضافے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے، جو شرح سود میں 50 فیصد کی نمایاں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ، رواں مالی سال کے دوران ملکی کاروباری سرگرمیوں میں بھی دوبارہ بہتری دیکھی جا رہی ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہا ہے، جو معیشت کے لیے خوش آئند اشارہ ہے۔
واضح رہے کہ، اس سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے حوالے سے اسٹاف کنٹری رپورٹ جاری کی تھی، جس میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ، رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جبکہ آئندہ مالی سال 2025-26 میں یہ ذخائر 17 ارب 68 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ، رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی معاشی شرح نمو مقررہ حکومتی ہدف سے کم رہے گی۔ تاہم رپورٹ میں آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو میں اضافے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے معاشی نمو 2.6 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔