پاکستانی فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ، خالصتا دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ممالک کو شامل کرنے کی بھارتی کوشش ناقص سیاسی حکمت عملی کا مظہر ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے دورے کے دوران ’نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے واضح کیا کہ، پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا فوری، منہ توڑ اور شدید جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے آپریشن ‘بنیان مرصوص’ میں پاکستان کی کامیابی کے بارے میں بھارتی الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، بھارت اس آپریشن میں پاکستان کی دہائیوں پر مبنی حکمت عملی، مضبوط اداروں اور مقامی صلاحیتوں پر مبنی کامیابی کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ، بھارتی بیانات پاکستان کی عسکری فتح کو تسلیم نہ کرنے کی روایتی ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔
آرمی چیف نے بھارت کے ‘آپریشن سندور’ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ، وہ اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور بعد ازاں اس ناکامی کی غیر منطقی توجیہات پیش کی گئیں جو اس کی آپریشنل تیاری اور تزویراتی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کہا کہ، بھارت کی خطے میں ’نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر‘ کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوششیں اس وقت ناکام ہو رہی ہیں جب خطے کے ممالک اس کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریے سے تنگ آ چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ، پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ اصولی سفارتکاری، باہمی احترام اور امن پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں، اور خود کو ایک نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر منوایا ہے۔
آرمی چیف نے خبردار کیا کہ، اگر پاکستان کی آبادی، فوجی تنصیبات، اقتصادی مراکز یا بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب نہ صرف سخت، بلکہ ’شدید، گہرا اور سوچ سے بڑھ کر تکلیف دہ‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ، ایسی کسی بھی جارحیت کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی، جو ایک خودمختار ایٹمی ریاست کے خلاف اشتعال انگیزی کے ممکنہ تباہ کن نتائج کا ادراک کرنے میں ناکام ہے۔
انہوں نے جنگ کے بدلتے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ، جدید دور کی جنگیں صرف اسلحے یا نعرے بازی سے نہیں بلکہ قومی عزم، ادارہ جاتی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور مضبوط نظریاتی بنیادوں سے جیتی جاتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور فارغ التحصیل افسران پر زور دیا کہ، وہ دیانتداری، بے لوث خدمت اور غیر متزلزل قومی عزم کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں۔