آئی ایم ایف آج پاکستان کے بیل آؤٹ پیکیج کا جائزہ لے گا، بھارت کا شدید دباؤ متوقع

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) آج اسلام آباد کے لیے اپنے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی اگلی قسط کا جائزہ لے گا، جب کہ بھارت کی جانب سے اس قسط کے اجراء کو روکنے کے لیے شدید سفارتی دباؤ متوقع ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے اس کی تین فوجی چھاؤنیوں پر ڈرونز اور میزائل حملے کیے ہیں، جن کی وجہ سے کئی علاقوں میں رات بھر بجلی کی بندش رہی۔ تاہم پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ وکرم مسری نے جمعرات کو کہا کہ بھارت آئی ایم ایف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ فنڈ کو یہ سوچنا چاہیے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں ان بیل آؤٹ پیکیجز نے کتنی کامیابی حاصل کی ہے اور آیا یہ مزید مالی مدد فراہم کرنے کا صحیح وقت ہے یا نہیں۔

پاکستان کے لیے یہ قسط انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی معیشت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ملک حالیہ مہینوں میں بلند افراط زر اور کم شرح نمو سے گزر رہا ہے، اور اسے اپنی اقتصادی بحالی کے لیے فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔

ادھر، بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ عالمی بینک نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سندھ طاس معاہدے پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔ بانگا نے بھارتی چینل CNBC TV18 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، “معاہدے میں کسی قسم کی معطلی کی گنجائش نہیں ہے۔ یا تو اسے ختم کر دینا چاہیے یا کسی نئے معاہدے سے بدل دینا چاہیے۔”

بانگا نے واضح کیا کہ عالمی بینک کا کردار اس معاہدے میں محض ایک سہولت کار کا ہے اور وہ فریقین کے درمیان ثالثی نہیں کرے گا۔

یہ حالات پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہیں، جہاں ایک طرف معیشت بحران میں ہے اور دوسری طرف پڑوسی ملک کے ساتھ کشیدہ تعلقات مزید پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں